تہران، 19 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) رہبر معظم انقلاب نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ نے ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کر کے یہ ثابت کر دیا کہ امریکی حکام کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں، ایران دشمن کو ناقابل فراموش سبق سکھائے گا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی امریکا کی جانب سے بار بار خلاف ورزی نے ایک بار پھر یہ حقیقت ثابت کر دی ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کس قدر بے وقعت اور ناقابل اعتبار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہید امام خامنہ ای کی تاریخی تشییع اور ملک کے اہم امور کے حوالے سے قوم کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے ملت ایران کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ شہید امت کی تاریخی اور بے مثال تشییع میں عوام کی عظیم الشان شرکت نے اسلامی۔ایرانی شناخت، وفاداری، بصیرت اور محبت کا ایک نیا باب رقم کیا۔ تہران، قم اور مشہد میں کروڑوں افراد کی شرکت، آنسو بھری آنکھیں، گرم جذبات اور مضبوط عزم نے ایران کے دوستوں کو تحسین پر مجبور کر دیا، جبکہ دشمن حیرت، غصے اور خوف میں مبتلا ہو گیا۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ اسی دوران امریکا نے ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے شدہ معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کی، جس سے سب پر واضح ہو گیا کہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور ناقابلِ اعتبار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زور زبردستی، بالادستی کی خواہش اور جارحیت امریکی طرزِ عمل کا لازمی حصہ ہیں۔ امریکا نے ایک بار پھر اپنا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور اس کی بدعہدی اور جرائم نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکا جھوٹا، غیر منطقی، ناقابل اعتماد اور بد نیت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ جنگ بھڑکانے اور مزید نقصان اٹھانے کا خواہش مند ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ملت ایران اور مقاومتی محاذ ایسا سبق سکھائیں گے جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ حالیہ دنوں میں جنوبی علاقوں کے مجاہدین اور بہادر عوام کی مزاحمت اس کی واضح مثال ہے۔
رہبرِ انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرحلے میں سب سے بنیادی ضرورت قومی اتحاد اور یکجہتی پر اصرار ہے۔ عوام اور حکام کو ہر سطح پر اتحاد برقرار رکھتے ہوئے انقلاب اسلامی کے اعلی مقاصد، ایران کی عزت اور آزادی کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کو ایک مجرمانہ اور مکار دشمن کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی بارہا تاکید کی جاچکی ہے کہ اختلاف، تفرقہ، سیاسی کشمکش اور سماجی تقسیم سے اجتناب ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے ذمہ داران اور انقلاب، امام اور شہید رہبر سے وابستہ افراد پر قومی یکجہتی کے تحفظ کی ذمہ داری مزید زیادہ ہے۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ ایرانی قوم کو چاہیے کہ وہ ریاستی اداروں کے مخلص ذمہ داران پر اعتماد برقرار رکھے، کیونکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی کوششیں واضح ہیں۔ بعض افراد خلوص نیت سے بعض حکام کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں، جو اپنی جگہ ایک قیمتی سرمایہ ہے، لیکن ضروری ہے کہ ایسی تنقید کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی کا سبب نہ بنے اور نہ ہی قومی اتحاد کو نقصان پہنچائے۔ اگر یہ حدود برقرار رہیں تو تنقید ملک کے امور میں بہتری اور ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کو ایران میں کسی بھی قسم کی کمزوری کا اشارہ نہیں ملنا چاہیے، کیونکہ اگر قوم مکمل طور پر اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو برقرار رکھے تو دشمن کو پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔
