میامی اسٹیڈیم میں ہفتے کی رات کھیلے گئے میچ کے ابتدائی 20 منٹ میں ڈیکلن رائس اور ایزری کونسا نے انگلینڈ کو برتری دلائی۔ اس کے بعد ساکا نے دو گول کر کے ٹیم کا اسکور 0-4 کر دیا۔ ڈیکلن رائس نے تیسرے منٹ، ایزری کونسا نے 18 ویں جبکہ ساکا نے 37 ویں اور اسٹاپیج ٹائم میں گول کیے۔ دوسرے ہاف میں فرانس نے تین گول کر کے واپسی کی اور برابری کرنے کے کئی آسان مواقع بھی بنائے، لیکن وہ ان کا فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ کلیان ایمباپے نے پہلا گول (44) ویں منٹ اور 66 ویں منٹ میں اپنا دوسرا گول کیا۔ ان دو گولوں کے درمیان بریڈلی بارکولا نے (54 ویں منٹ میں) گول کیا۔ ان دو گولوں کی بدولت ایمباپے 2026 ورلڈ کپ کے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں سب سے آگے پہنچ گئے ہیں۔ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں 22 گول کے ساتھ لیونل میسی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
فرانس کے لیے برابری کا ایک شاندار موقع مائیکل اولیس کے پاس تھا، لیکن ان کا شاٹ ہدف سے چوک گیا۔ اور یہ چوک فرانس کے لیے مہنگی ثابت ہوئی کیونکہ انگلینڈ نے دوسری طرف سے حملہ کیا اور پنالٹی حاصل کی، جس پر ساکا نے پنالٹی سے اپنی ہیٹرک مکمل کی۔ ڈائیوٹ اوپامیکانو کے شاندار پاس کے بعد فرانس کے چوتھے گول کے ساتھ عثمان ڈیمبیلے نے میچ کے آخری لمحات میں انگلینڈ کو تشویش میں ڈال دیا۔ میچ کے آخری لمحات میں جوڈ بیلنگہم نے 98 ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کر کے انگلینڈ کو 1966 کے بعد سے ورلڈ کپ میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں مدد کی۔ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی گزشتہ 60 سالوں میں یہ سب سے اچھی کارکردگی رہی۔ 1966 میں انگلینڈ نے ورلڈ کپ کا خطاب جیتا تھا۔
