سپریم کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے ہائی کورٹ کی ہدایت کو چیلنج کرنے والی تمل ناڈو حکومت کی خصوصی عرضی (ایس ایل پی) پر نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ عبوری حکم پاس کیا ہے۔ بنچ نے تبصرہ کیا کہ ریاست بھر میں گئو کشی پر پابندی لگانے والی ہائی کورٹ کی ہدایت میں پہلی نظر میں ’اصلاح‘ کی ضرورت ہے۔
تمل ناڈو حکومت نے دلیل دی کہ یہ حکم تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ 1958 اور دیگر نافذ العمل قوانین کے برعکس ہے، جو جانوروں کے ذبیحہ کو باقاعدہ بناتے ہیں، لیکن مکمل پابندی نہیں لگاتے۔ مدراس ہائی کورٹ نے 27 مئی کو بقرعید کے دوران ذبیحہ کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کرنے والی ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت کرتے ہوئے پورے تمل ناڈو میں گایوں اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر مکمل پابندی لگانے کی ہدایت دی تھی۔ اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ریاست نے دلیل دی کہ یہ تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ 1958 کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو قانون کے مطابق گایوں کی کچھ زمروں کے ذبیحہ کی اجازت دیتا ہے۔
ریاست نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ نے ایک ایسے سرکاری حکم پر بھروسہ کر کے مفادِ عامہ کی عرضی کے دائرے کی خلاف ورزی کی، جو عرضی میں چیلنج کے تحت نہیں تھا اور گئو کشی پر مکمل پابندی لگا دی، جبکہ عرضی میں صرف عوامی مقامات پر ذبیحہ کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ریاست نے یہ بھی دلیل دی کہ یہ فیصلہ اندرونی طور پر متضاد ہے اور قانونی فریم ورک کے برعکس ہے۔ ریاست نے ہائی کورٹ کے اس نتیجے پر بھی اعتراض کیا کہ حکام نے تسلیم کیا تھا کہ عوامی مقامات پر گئو کشی ہوگی۔ ریاست نے یہ بھی دلیل دی کہ اس نے مسلسل یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ اس طرح کے ذبیحہ کو روکا جائے گا اور اسے صرف طے شدہ اور ایسے مقامات تک محدود رکھا جائے گا، جو کھلی جگہ نہ ہو۔
