انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تین وکٹوں کے نقصان پر ریکارڈ 257 رنز بنائے۔ جواب میں ہندوستان کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں پر 201 رنز ہی بنا سکی۔
258 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ہندوستان کو ابتدا میں ہی ابھیشیک شرما (3) کی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد سنجو سیمسن نے جارحانہ انداز اپنایا، لیکن وہ 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ ایشان کشن نے 56 رنز کی نصف سنچری اسکور کی جبکہ شریاس ایئر نے 28 رنز بنائے۔ دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے اہم شراکت قائم کرتے ہوئے 10 اوورز میں ٹیم کا اسکور 110 رنز تک پہنچایا، تاہم اسی کے بعد شریاس آؤٹ ہوگئے اور ہندوستانی اننگز بکھرنے لگی۔
ایشان کشن کے آؤٹ ہونے کے بعد تلک ورما نے 53 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، لیکن اس وقت تک مطلوبہ رن ریٹ بہت زیادہ ہو چکا تھا اور ہندوستان 56 رنز سے میچ ہار گیا۔
اس سے قبل جوس بٹلر نے صرف 64 گیندوں پر 131 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس میں 12 چوکے اور 8 چھکے شامل تھے۔ انہیں شاندار کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
بٹلر اور ہیری بروک نے دوسرے وکٹ کے لیے 233 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم کی، جو اس فارمیٹ میں ایک تاریخی شراکت ہے۔ بروک نے 45 گیندوں پر چار چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 95 رنز بنائے۔
ہندوستان کی جانب سے شیوم دوبے نے 19ویں اوور میں دو وکٹیں حاصل کیں، اگرچہ انہوں نے 22 رنز بھی دیے۔ پرنس یادو کی گیند پر بروک نے چوکا لگا کر انگلینڈ کا اسکور 250 کے پار پہنچایا، جو ٹی-20 میں ہندوستان کے خلاف انگلینڈ کا پہلا 250 سے زائد مجموعہ ہے۔
ہندوستان کو ابتدا میں فل سالٹ کی وکٹ جلد مل گئی تھی، لیکن اس کے بعد بٹلر اور بروک نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ہندوستانی بولرز کو بے بس کر دیا۔ بروک نے صرف 19 گیندوں پر اپنی تیز ترین نصف سنچری مکمل کی، جبکہ بٹلر نے 34 گیندوں پر ففٹی اور 51 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی۔
ہندوستانی ٹیم کی ناقص فیلڈنگ بھی شکست کی ایک بڑی وجہ بنی۔ متعدد آسان کیچ چھوڑے گئے، جس کا بٹلر اور بروک نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور انگلینڈ کو ایک بڑے اسکور تک پہنچا دیا۔
