یہ رپورٹ زمینی حقائق جاننے کے لیے کیے گئے دوروں، مقامی باشندوں، مساجد کی انتظامیہ، وکلاء، عوامی نمائندوں سے ملاقاتوں اور سرکاری ریکارڈ کے مطالعے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتظامی کارروائیاں چند الگ تھلگ مقامات تک محدود نہیں بلکہ سرحدی اضلاع میں مسلم مذہبی اداروں کے خلاف ایک وسیع انتظامی مہم کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ مختلف مقدمات میں راجستھان لینڈ ریونیو ایکٹ 1956، راجستھان پنچایتی راج رولز 1996، راجستھان کالونائزیشن ایکٹ 1954 اور راجستھان لینڈ ریونیو (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) ایکٹ 1975 کے تحت نوٹس جاری کیے گئے۔ متعدد نوٹسوں میں تین ماہ تک سول قید اور سالانہ لگان سے پچاس گنا جرمانے کی تنبیہ بھی شامل تھی۔
رپورٹ میں انصاف اور قانونی ضابطۂ کار پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ متعدد معاملات میں نوٹس پر درج تاریخ اور اس کی حقیقی وصولی کے درمیان نمایاں فرق پایا گیا، جبکہ متاثرہ فریقین کو جواب داخل کرنے یا قانونی مدد حاصل کرنے کے لیے صرف ایک سے تین دن کا وقت دیا گیا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا انہیں مؤثر طور پر اپنا موقف پیش کرنے کا حقیقی موقع فراہم کیا گیا یا نہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے مطابق اب تک باڑمیر میں چھ مساجد، جیسلمیر میں دو مساجد اور متعدد مزارات، جبکہ بیکانیر میں ایک مسجد اور دو مزارات منہدم کیے جا چکے ہیں۔ کئی دیگر مقامات پر انہدام یا بے دخلی کی کارروائیاں زیرِ عمل ہیں، جبکہ متعدد مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ متعلقہ اراضی کی قانونی حیثیت ہر معاملے میں مختلف ہے، جن میں چراگاہی زمین، اورن زمین، کھاتہ داری اراضی، الاٹ شدہ زمین اور آبادی اراضی شامل ہیں۔ تاریخی کالونائزیشن ریکارڈ، ریونیو ریکارڈ اور موجودہ زمینی ریکارڈ میں پائے جانے والے اختلافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے اپنے حقائق اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر الگ الگ کیا جانا چاہیے، نہ کہ یکساں انتظامی نقطۂ نظر اختیار کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق راجستھان کی بین الاقوامی سرحد سے متصل دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں جاری ہیں یا زیرِ غور ہیں، جس کے باعث یہ معاملہ وسیع آئینی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اے پی سی آر نے واضح کیا کہ اگرچہ قومی سلامتی اور سرحدی انتظام انتہائی اہم ہیں، تاہم تمام انتظامی اقدامات آئین ہند، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ تنظیم کے مطابق قومی سلامتی اور شہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کئی اہم قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ کیا متاثرہ فریقین کو واقعی مؤثر سماعت کا موقع ملا؟ کیا سپریم کورٹ کی ہدایات اور قانونی طریقۂ کار پر مکمل عمل کیا گیا؟ کیا ہر مقدمے کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا؟ اور کیا انتظامیہ نے تمام معاملات میں یکساں اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کیا؟
اپنی سفارشات میں اے پی سی آر نے حکومتِ راجستھان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتوں میں زیرِ سماعت معاملات میں ناقابلِ واپسی کارروائی سے گریز کیا جائے، ہر متاثرہ فریق کو مناسب نوٹس اور مؤثر سماعت کا موقع دیا جائے، سپریم کورٹ کی ہدایات اور قدرتی انصاف کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے، کسی بھی کارروائی سے قبل زمین اور وقف ریکارڈ کی آزادانہ جانچ کی جائے، اور عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات کے حل میں بات چیت، شفافیت اور آئینی اقدار کو ترجیح دی جائے۔
رپورٹ جاری کرتے ہوئے اے پی سی آر نے واضح کیا کہ یہ دستاویز کسی مخصوص برادری کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ آئینی حکمرانی، قانون کی بالادستی اور منصفانہ انتظامی عمل کے فروغ کے مقصد سے تیار کی گئی ہے۔ تنظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی، شہری حقوق کے تحفظ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ایک ساتھ یقینی بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہر انتظامی اقدام آئینی اصولوں اور قائم شدہ قانونی ضابطوں کے مطابق انجام دیا جائے۔
