Masarrat
Masarrat Urdu

روس ایس-400 کے مستقبل کے حوالے سے ترکی کے ساتھ رابطے میں ہے

  • 11 Jul 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ماسکو، 11 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) روس نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے پاس روسی ایس-400 فضائی دفاعی نظام کے مستقبل کے بارے میں اردوان انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ کریملن کا یہ بیان جمعے کو ایک میڈیا رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکی ان فضائی دفاعی میزائلوں کو کسی نامعلوم خلیجی ملک کو منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ترکی کے روزنامہ حریت نے جمعہ کے روز اطلاع دی ہے کہ انقرہ ایف-35 لڑاکا طیاروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں خلیجی ملک کو ایس-400 نظام کی دوبارہ فروخت کا اعلان کرسکتا ہے۔ ترکی کی طرف سے 2019 میں ایس-400 سسٹم کی خریداری کے بعد، امریکہ نے ترکی کو ایف-35 پروگرام سے نکال دیا، جس میں ترکی بھی پروڈکشن پارٹنر تھا۔ جس کے بعد امریکہ نے اپنے نیٹو اتحادی ترکی پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ یہ نظام ایف-35 طیاروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور یہ نیٹو کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتا۔

دریں اثنا، ترکی نے بارہا کہا ہے کہ دونوں نظاموں کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے اور اس مسئلے کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیشن بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ ترکی کا موقف ہے کہ اس نے ایف-35 پروگرام سے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور اس کی معطلی قوانین کے خلاف ہے۔ ترکی کا خیال ہے کہ ایف-35 طیارے نہ صرف ترکی بلکہ نیٹو اتحاد کو بھی مضبوط کریں گے۔

رواں ہفتے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ترکی پر سے پابندیاں اٹھا لے گا اور ساتھ ہی انہوں نے ایف 35 جیٹ طیارے فروخت کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ اسے

مسٹر ٹرمپ کا مسٹر اردگان کی طرف اب تک کا سب سے بڑا سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مسٹر ٹرمپ اکثر مسٹر اردوان کی تعریف کرتے ہیں اور انہیں ایک قریبی اتحادی سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سال مسٹر ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مسٹر اردگان نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ مسٹر ٹرمپ اس مسئلے کو حل کر کے تنازعہ کو ختم کر دیں گے۔

میڈیا رپورٹس اور ترکی کی جانب سے مبینہ معاہدے کے لیے روس سے اجازت طلب کیے جانے کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعے کے روز کہا، "میں یہاں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔ تاہم، ہم اس معاملے پر ترک فریق کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر ان کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے۔"

 

Ads