ایران نے امریکہ اور خلیجی ممالک کے مشترکہ اعلامیے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کو مداخلت اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے امریکہ اور جی سی سی کا مشترکہ بیان غیر ذمہ دارانہ ہے۔ مشترکہ اعلامیہ علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور تنازعات کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ کا علاقائی ممالک کی سلامتی کا عزم محض بیان بازی اور کھوکھلا دعویٰ ہے۔ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی سیکیورٹی نہیں بلکہ خلیجی ممالک کی معیشت پر بوجھ ہے جب کہ علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کا ایران کے خلاف استعمال واشنگٹن کی بدنیتی کا ثبوت ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خلیجی ممالک کی امریکہ اور اسرائیلی موقف کیساتھ ہم آہنگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اور لبنانی عوام کی جدوجہد کو بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز سمجھتے ہیں، لیکن وہاں مزاحمتی تحریکوں کو ایرانی پراکسی قرار دینا سراسر غلط اور حقیقت کے منافی ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ خلیج تعاون کونسل امریکہ اور اسرائیل کے بیانیے کا حصہ بننے سے انکار کر دیں اور ایران مخالف پالیسیوں کا حصہ نہ بنیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی پالیسی کے بجائے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک خطے کی حمایت کریں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن اور سیکیورٹی بیرونی مداخلت کے بغیرعلاقائی تعاون سے ممکن ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دفاعی، میزائل اور ڈرون پروگرام کو خطرہ قرار دینے کی مذمت کرتے ہیں۔ ایران کی دفاعی صلاحیتیں خطےمیں جارحیت کو روکنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ اپنے پر امن جوہری پروگرام پر امریکہ اور اسرائیل کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
