مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر وینس نے کہا کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دے گا۔
سوئٹزرلینڈ کے عالیشان برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والی بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر وینس نے کہا، ’’ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے بہت مضبوط بنیاد قائم کر دی ہے۔‘‘ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے ساتھ امریکہ۔اسرائیل جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’جوہری معاملے پر بہت مختصر گفتگو ہوئی، لیکن اس حوالے سے کوئی تفصیلی مذاکرات نہیں ہوئے۔‘‘
امریکہ میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز، جو کہ دنیا کے زیادہ تر تیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اب جہاز رانی کے لیے "مکمل طور پر کھلا" ہے۔ ایران نے جنگ کے اوائل میں ہی اس آبی گزرگاہ کو بند کردیا تھا جس سے دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہو گیا تھا۔
