وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سکریٹری (امریکہ) ناگراج نائیڈو نے مسٹر میکس کے سامنے ہندوستانی ملاحوں کی سکیورٹی کا مسئلہ اٹھایا اور انہیں ہندوستان کی ناراضگی سے آگاہ کیا۔ جمعرات کو عمان کے ساحل اور آبنائے ہرمز کے پاس امریکی فوج کے حملوں میں ہندوستانی ملاحوں والے جہاز ایم ٹی جل ویر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز میں سوار تمام 20 ملاحوں کو عمان کی بحریہ کی مدد سے محفوظ نکال لیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد مسٹر میکس کو دوسری بار وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا۔
اس سے پہلے دس جون کو پلاؤ کے جھنڈے والے جہاز ایم ٹی سیٹیبیلو پر امریکی حملے میں تین ہندوستانی ملاح مارے گئے تھے۔ اس جہاز پر 24 ہندوستانی ملاح سوار تھے۔ ہندوستان نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور مسٹر میکس کو بلا کر سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ امریکی فوج نے ہندوستانی ملاحوں والے جہاز ایم ٹی میریویکس کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعرات کو کہا تھا کہ ہندوستانی حکومت ”هندوستانی ملاحوں کی بہبود اور سکیورٹی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔“
انہوں نے سمندری حملوں کے مسلسل جاری رہنے کو ”بے حد تشویشناک اور علاقے میں چل رہے تنازعہ کا براہ راست نتیجہ“ قرار دیا اور تشدد کو ختم کرنے کی پرزور اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں پر حملے بند ہونے چاہئیں۔ ہندوستان بات چیت اور سفارت کاری کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ علاقے میں جلد سے جلد امن اور استحکام لوٹ سکے۔ اس درمیان امریکہ کا کہنا ہے یہ جہاز ہرمز کے قریب امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے تیل کو باہر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
