ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی علی الصبح آئی آر جی سی کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ نے دو مرحلوں میں امریکی فوج کے "18 ٹھکانوں" پر حملے کیے۔ یہ حملے ’’حملہ آور کو سزا دینے اور امریکی فوج کے حملے کے جواب میں‘‘ کئے گئے۔ ان میں کویت کے علی السالم اور احمد الجابر ایئر بیس کے علاوہ بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی نور نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے شمالی عراق میں واقع امریکی حریر ایئر بیس پر بھی میزائل حملہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے عراقی کردستان میں ایک امریکی ریڈار سائٹ اور آبنائے ہرمز و خلیج فارس میں امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔ آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے پر ڈرون حملہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس حملے میں مواصلاتی اینٹینا اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران پر مذاکرات میں تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ بعد ازاں ایرانی میڈیا نے اطلاع دی کہ صوبہ فارس اور مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں۔ میناب، مہر، بندر عباس اور سیریک شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک امریکی ایف-16 طیارے نے جنوبی ایران کی فضائی حدود میں دراندازی کی تھی۔ ہیڈکوارٹر کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے بحری جہازوں، بشمول تیل ٹینکر اور تجارتی جہازوں، کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ کمانڈ نے کہا کہ آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
