Masarrat
Masarrat Urdu

سی جے پی نے نوعمروں کو کیا متوجہ، ’زندگی کے پہلے احتجاج‘ میں پہنچے نوجوان

Thumb

نئی دہلی، 06 جون (مسرت ڈاٹ کام) سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے نیٹ پیپر لیک کے معاملے میں ہفتہ کو جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ہاتھوں میں پوسٹر اور پمفلٹ لیے کچھ لوگوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، تو کچھ نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

جنتر منتر دہلی میں احتجاجی مظاہروں کا مرکز ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے ہر شخص اور گروپ اس کا رخ کرتا ہے، تاہم سی جے پی کا یہ احتجاج خاص تھا۔ یہاں صرف معاشرے کے بزرگ شرکاء ہی نہیں، بلکہ نوعمر، یہاں تک کہ اسکول کے بچے بھی موجود رہے۔ ایسے ہی ایک طالب علم سمرتھ اپنی زندگی کے پہلے احتجاج میں حصہ لینے جنتر منتر پہنچے۔ بارہویں کلاس میں پڑھنے والے سمرتھ کی عمر صرف 17 سال ہے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ احتجاج تعلیم کے معاملے پر منعقد ہو رہا ہے تو انہوں نے اپنی ماں سے ضد کی کہ وہ جنتر منتر جانا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ ضد مان لی گئی۔

سمرتھ نے اس احتجاج میں شامل ہونے کے اپنے تجربے پر یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ میری زندگی کا پہلا احتجاج ہے۔ برسوں سے بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر غصہ آتا ہے۔ سی جے پی نے ہمیں ایک ایسا پلیٹ فارم دیا ہے جہاں ہم پرامن طریقے سے اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں۔ ہماری بس یہی مانگ ہے کہ ہمارا مستقبل محفوظ رہے اور نظام شفاف ہو جس میں ہم ٹھیک طرح سے امتحان دے سکیں اور آگے چل کر زندگی میں کچھ بن سکیں۔ کم از کم امتحانات تو ٹھیک سے ہوں۔“ سمرتھ نے ابھی 12ویں کلاس میں داخلہ لیا ہے اور آنے والے سال میں وہ بورڈ کا امتحان دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حال ہی میں مرکزی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے امتحانی نتائج میں آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سے متعلق بدنظمی پر بھی فکر مند ہیں۔

انہوں نے کہا، ”اگر میں یہ سوچوں کہ اس سال میں نے بورڈ کا امتحان نہیں دیا تو میرے لیے یہ فکر کی بات نہیں ہے، تو یہ غلط ہوگا۔ آنے والے سال میں مجھے بھی امتحان دینا ہے۔ سی بی ایس ای ایک بڑا بورڈ ہے اور ملک بھر کے بچے اس امتحان میں حصہ لیتے ہیں۔ او ایس ایم کا نظام اس لیے لایا گیا تھا تاکہ چیکنگ شفاف ہو۔ اگر یہی نظام ٹھیک سے کام نہیں کرے گا تو طلبہ کا مشتعل ہونا لازمی ہے۔“ دوسری طرف، ہنس راج کالج میں پڑھنے والے 19 سالہ نکھل گپتا بھی ایک نئی پہل کا تجربہ کرنے کے لیے جنتر منتر پہنچے۔ وہ عام طور پر احتجاجی مظاہروں میں شامل نہیں ہوتے، لیکن جب نوجوانوں اور طالب علموں سے متعلق مسئلے پر احتجاج ہوا تو جنتر منتر چلے آئے۔ انہوں نے کہا، ”یہ (پیپر لیک) تشویش کا موضوع ہے۔ سی بی ایس ای اور نیٹ کے امتحانات ٹھیک سے نہ ہونا ملک کے نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے۔“

نکھل نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والی سی جے پی کی مانگ کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سی جے پی کا منشور پڑھ چکے ہیں اور پارٹی کے مطالبات سے اتفاق بھی رکھتے ہیں۔ قومی دارالحکومت کی چلچلاتی گرمی اور تیز دھوپ میں 13 سالہ اپرس کور بھی تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرنے جنتر منتر پہنچیں۔ نویں کلاس میں پڑھنے والی اپرس کے ہاتھ میں ایک بینر تھا، جس پر کالے واٹر کلر سے لکھا تھا، ’بچے کوئی تجربہ گاہ نہیں ہیں۔‘

انہوں نے اپنی ناراضگی کو لفظوں میں پروتے ہوئے کہا، ”میں احتجاج میں آئی ہوں کیونکہ ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف میرے دل میں غصہ ہے۔ وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ اگر وہ استعفیٰ نہیں دے سکتے تو نظام کو سدھارنے کی ذمہ داری لیں۔ میں بڑی ہو کر ایک ڈیزائنر-الیسٹریٹر بننا چاہتی ہوں۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے مجھے کئی مراحل پار کرنے ہوں گے۔ اگر ایک عام شہری کی اتنی ذمہ داری طے کی جا سکتی ہے تو وزراء کی کیوں نہیں؟“ اپرس بتاتی ہیں کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والدین احتجاج میں شامل ہونے جا رہے ہیں، تو انہوں نے بھی ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ اپنی زندگی کے پہلے احتجاج میں اپرس نے محسوس کیا کہ ایک جمہوریت کا شہری ہونا کیسا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”مجھے اچھا لگ رہا ہے کہ میں اپنی آواز اٹھا پا رہی ہوں اور اپنی اظہارِ رائے کی آزادی کا استعمال کر رہی ہوں۔“

 

Ads