Masarrat
Masarrat Urdu

ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی 34 سالہ خدمات پر مبنی کتاب''سیّد کام کرتا ہے'' کی رسمِ رونمائی

Thumb

نئی دہلی، 6 جون (مسرت ڈاٹ کام) دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک پُروقار تقریب کے دوران معروف طبی معالج اور محسن اردو ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی 34 سالہ بے لوث خدمات پر مبنی کتاب "سیّد کام کرتا ہے" کی رسمِ رونمائی عمل میں آئی۔

اس تقریب کا اہتمام آل انڈیا یونانی طبی کانگریس اور حالی پبلشنگ ہاؤس کے اشتراک سے کیا گیا۔ تقریب کا بنیادی مقصد "زندوں کی قدر کرو، یہی اصل تہذیب ہے" کے عنوان کے تحت ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی زندگی میں ہی ان کی خاموش محنت، طبِ یونانی کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اردو زبان کے فروغ کے لیے والہانہ خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔

تقریب کی نظامت ڈاکٹر فیضان الحق نے کی جب کہ صدارت کے فرائض پروفیسر عبدالحق نے انجام دیے۔ مہمانانِ ذی وقار میں ڈاکٹر شمس اقبال اور ڈاکٹر سیّد فاروق شامل تھے۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر اختر الواسع اور معصوم مرادآبادی نے شرکت کی۔ کتاب کا تعارف کتاب "سیّد کام کرتا ہے" کے مرتب ڈاکٹر عبدالحی ہیں۔ یہ کتاب ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی حیات و خدمات کا آئینہ ہے، جس میں مختلف معزز قلم کاروں کے مضامین شامل ہیں۔

اس موقع پر ماہر اقبالیات پروفیسر عبدالحق نے کہا کہ "آج ہم نے ثابت کر دیا کہ ہم زندوں کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے تعلیم، طب اور ادب کے میدان میں جو چراغ جلائے ہیں، ان کی روشنی نسلوں تک جائے گی۔ 'سیّد کام کرتا ہے' کا عنوان ہی ان کی شخصیت کا خلاصہ ہے۔ وہ بولتے کم اور کام زیادہ کرتے ہیں۔"

پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ "ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے یہ پیغام دیا ہے کہ جدید سائنس اور طب کی تعلیم اپنی مادری زبان میں بھی دی جا سکتی ہے۔ ان کی شخصیّت علم، عمل اور اخلاص کا حسین امتزاج ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی 34 سالہ ریاضت کا اعتراف نامہ ہے۔"

قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ "طبِ یونانی کو سرکاری سرپرستی اور عوامی اعتماد دلانے میں ڈاکٹر سیّد احمد خاں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ یہ کتاب ان کی خدمات کا معتبر ریکارڈ ہے۔

کتاب کے سلسلے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی معصوم مرادآبادی نے کہا کہ اردو صحافت اور ادب کے لیے ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے کئی رسائل کی سرپرستی کی، ادیبوں اور قلمکاروں کی حوصلہ افزائی۔ 'زندوں کی قدر کرو' کا نعرہ دے کر انہوں نے ہمیں اپنی تہذیبی روایت یاد دلائی ہے۔"

ڈاکٹر سیّد فاروق نے کہا کہ "میں نے ڈاکٹر صاحب کو 30 سال سے دیکھا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی جہد مسلسل اور خلوص ہے۔ وہ اردو کے لیے اس دور میں کام کر رہے ہیں جب لوگ اس سے دور بھاگ رہے ہیں۔ یہ تقریب اور یہ کتاب ہماری تہذیب کا اثاثہ ہیں۔"

کتاب کےمرتب ڈاکٹر عبدالحی نے کہا کہ یہ کتاب محض اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی دستاویز ہے۔ ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے 34 سال تک خاموشی سے طبِ یونانی اور اردو کی خدمت کی۔ ہم نے ان کی زندگی میں ہی یہ اعترافِ خدمت پیش کر کے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ کتاب نوجوان اطباء، شیدائی اردواور طلبہ کے لیے مشعلِ راہ بنے۔

کتاب کی رسمِ اجرا تمام مہمانان کے ہاتھوں مشترکہ طور پر عمل میں آئی۔ اس تقریب میں پروفیسر سلیم قدوائی، معروف افسانہ نگار خورشید حیات، معروف صحافی اور شاعر معین شاداب، مولانا علیم الدین اسعدی اور آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے نائب صدر وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا.

اچھی بات یہ رہی کہ تقریب کے دن دہلی کا موسم یکسر خوشگوار ہو گیا۔ شدید گرمی اور دھوپ کی تمازت کے بعد رِم جھم بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے فضا کو معتدل بنا دیا، جسے تمام شرکاء نے نیک شگون اور خدا کی خاص رحمت قرار دیا۔

آخر میں آل انڈیا یونانی طبی کانگریس اور حالی پبلشنگ ہاؤس کی جانب سے تمام قلمکاروں، مہمانوں اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ تقریب میں طب یونانی اور اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی. جن میں آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے دہلی حلقے کے صدر، نائب صدر اور دیگر عہدے داران، معروف شاعر حامد علی اختر، دوردرشن کے ایڈیٹر ڈاکٹر شمیم اختر، ریسرچ اسکالر کیف حبیب اللہ، الہ آباد سے اس تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لائے معروف صحافی، ادیب اور سہ ماہی ادب سلسلہ کے مدیر اعلیٰ محمد سلیم علیگ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں. 

Ads