واضح رہے کہ ڈاکٹر بشیر بدر طویل علالت کے بعد 28مئی 2026کو بھوپال میں انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر 91 برس تھی۔ بشیر بدر نے زندگی کا ایک طویل حصہ شعرو ادب کی خدمت میں وقف کیا۔ مشاعروں میں ان کی شرکت کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی۔ ان کے متعدد اشعار ایسے ہیں جو ہر خاص و عام کی زبان پر محاورہ کی طرح ازبر ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں اکائی، آس، امید، امیج وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ''بیسویں صدی میں اردو غزل'' اور ''آزادی کے بعد کی غزل کا تنقیدی مطالعہ" جیسی کتابیں ان کی تنقیدی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ہندوستان کے اہم شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور دیگر کئی اعزازات سے بھی انھیں سرفراز کیا گیا ہے۔ ایسے مقبول شاعر کا رخصت ہونا یقیناً قابل افسوس ہے۔ امید ہے نئی نسل بشیر بدر کی کاوشوں سے مستفید ہوتی رہے گی۔
