مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ پر ٹینڈر کی شرائط میں کی گئی تبدیلیوں کو سلسلے وار طریقے سے شیئر کرتے ہوئے اسے ایک بڑا فرضی واڑا قرار دیا ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق، اس پورے معاملے کی شروعات ٹینڈر کے عمل سے ہوئی۔ سی بی ایس ای نے مئی 2025ء میں جاری کیے گئے ٹینڈر میں واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ جوابی کاپیوں کو آٹومیٹک روبوٹک اسکینرز کے ذریعے اسکین کیا جائے، ان کی بائنڈنگ محفوظ رہے اور اسکیننگ کم از کم 300 ڈی پی آئی کی کوالٹی پر ہو۔ اس کے بعد اگست میں اسی ٹینڈر کو دوبارہ جاری کیا گیا، جس میں سے ان تمام سخت قوانین کو خفیہ طریقے سے ہٹا دیا گیا۔ اس میں 'روبوٹک اسکینرز' کی جگہ عام 'اسکینرز' کا لفظ استعمال کیا گیا اور اسکیننگ ریزولوشن کو بھی 300 ڈی پی آئی سے گھٹا کر 200 ڈی پی آئی کر دیا گیا۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ قوانین میں یہ نرمی ایک خاص وینڈر (کمپنی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ عملی طور پر اس کا کیا مطلب تھا۔ یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ 'کوئمپٹ' نامی کمپنی نے جوابی کاپیوں کو اسکین کرنے کے لیے موبائل فون کا استعمال کیا۔"
مسٹر گاندھی نے کہا کہ بچوں کو جو دھندلی کاپیاں ملی ہیں، جو صفحات غائب ہیں یا جو کاپیاں اسکین ہونے سے رہ گئی ہیں، وہ کوئی 'غلطیاں' نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسے معاہدے (کانٹریکٹ) کا متوقع نتیجہ ہے جسے کسی خاص وینڈر کے حساب سے تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے براہ راست ایک دھوکہ دہی قرار دیا اور کہا کہ ہر وہ بچہ جس کے نمبروں کی غلط جانچ ہوئی، وہ اس دھوکہ دہی کا شکار ہے۔
کانگریس لیڈر نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "آج صبح وزیر اعظم کے پاس آموں پر بات کرنے کا وقت تھا، لیکن ان کے پاس ان 18.5 لاکھ بچوں کے بارے میں بات کرنے کا وقت نہیں ہے جن کی جوابی کاپیاں فون سے اسکین کی گئیں۔"
مسٹر گاندھی نے سوال پوچھا کہ اس بڑے انکشاف کے بعد بھی دھرمیندر پردھان جی ابھی تک اپنے عہدے پر کیوں برقرار ہیں؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "مودی جی کی یہ خاموشی اب صرف بے حسی نہیں ہے، بلکہ یہ اس معاملے میں ان کی ملی بھگت کو ظاہر کرتی ہے۔"
