پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے سیاسی معاون محمد اکبر زادہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکانات کم ہیں، تاہم ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا کہ محمد اکبر زادہ نے کہا ’’دشمن کی کمزوری کی وجہ سے جنگ کا امکان کم ہے، لیکن مسلح افواج پوری طرح چوکس اور انتظار میں ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’اس بات میں کوئی شک نہ کرے کہ ہم چاہ بہار سے ماہ شہر تک کے علاقے کو جارحین کے لیے قبرستان بنا دیں گے۔‘‘ اس سے محمد اکبر زادہ کی مراد ایران کے طویل جنوبی ساحل کے دونوں سروں پر واقع مقامات تھے۔
الجزیرہ کے مطابق تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فواد ایزدی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مستقبل میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے کے لیے ایک ’’ضمانت‘‘ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایزدی نے کہا کہ ایران کے پاس واحد سنجیدہ چیز جس کے بارے میں ٹرمپ زیادہ کچھ نہیں کر سکتے، وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے پچھلی بار کی طرح ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی خلاف ورزی کی، تو تہران اس اہم آبی گزرگاہ میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔ یہ وہ دباؤ کی طاقت ہوگی جو ایران کے پاس ہوگی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی حکومت مناسب رویہ اختیار کرے۔
