انہوں نے کہا کہ 30 جون سے 29 جولائی تک بوتھ لیول افسران گھر گھر جا کر ووٹروں کی تفصیلات جمع کریں گے۔ موجودہ ووٹر فہرست میں شامل ہر ووٹر کو دو نقول پر مشتمل ایک انیومریشن فارم فراہم کیا جائے گا، جس میں معلومات بھرنے کے بعد ایک نقل واپس بی ایل او کو دینا ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اس بار ووٹروں کو آن لائن فارم بھرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ عوامی سہولت کے پیش نظر 2002 میں ہونے والی آخری ایس آئی آر کی ووٹر فہرست کو چیف الیکٹورل آفیسر کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے، جبکہ 2002 کے بعد دوسری ریاستوں سے دہلی منتقل ہونے والے افراد اپنے نام الیکژن کمیشن آف انڈیا کے پورٹل پر تلاش کر سکتے ہیں۔
الیکشن حکام کے مطابق اگر کسی ووٹر کا نام سابقہ ووٹر فہرست میں موجود نہ ہو لیکن اس کے والدین یا دادا دادی کا نام درج ہو تو متعلقہ شخص کو فارم میں اپنی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔اشوک کمار نے کہا کہ ایس آئی آر کے دوران پولنگ اسٹیشنوں کی ازسرِ نو تنظیم بھی کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے ہر پولنگ اسٹیشن پر ووٹروں کی حد 1500 سے کم کر کے 1200 مقرر کر دی ہے تاکہ ووٹنگ کے دوران عوام کو سہولت حاصل ہو۔
انہوں نے بتایا کہ جانچ کے پورے عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے مختلف سطحوں پر نگرانی کا نظام ہوگا اور سیاسی جماعتوں کی شمولیت بھی بوتھ لیول ایجنٹس کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی۔عوامی بیداری مہمات اور خصوصی کیمپ بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ ووٹروں کو فارم جمع کرانے میں مدد دی جا سکے۔ یہ مہم یکم اکتوبر تک 18 برس یا اس سے زیادہ عمر کے تمام ووٹروں کا احاطہ کرے گی۔حکام کے مطابق دہلی بھر میں 13 ہزار سے زائد گھر گھر جا کر سروے کریں گے۔ انتخابی فہرست کا مسودہ 5 اگست کو جاری کیا جائے گا، جبکہ دعوے اور اعتراضات جمع کرانے کی مدت 5 اگست سے 9 ستمبر تک ہوگی۔ حتمی ووٹر فہرست 7 اکتوبر کو جاری کی جائے گی۔
