خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل نہ کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خاتمے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی دراصل امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے، جبکہ افزودہ یورینیم بیرونِ ملک بھیجنے سے ایران دفاعی اور سیاسی طور پر کمزور پڑ سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران جوہری معاملے پر اپنے اسٹریٹجک مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔
