گروپ نے کہا کہ ان حملوں میں ڈرون حملے اور راکٹوں کی بوچھاڑ شامل تھی جو مسلسل اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور شہریوں اور قصبوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیانات کی ایک سیریز میں گروپ نے کہا کہ کئی حملوں کا مرکز 'حدّاثہ' قصبہ تھا، جہاں حالیہ دنوں کی شدید ترین لڑائیوں میں سے ایک کے دوران اس کے جنگجوؤں نے آگے بڑھتی ہوئی اسرائیلی افواج اور بکتر بند یونٹوں کا مقابلہ کیا۔
حزب اللہ کے مطابق، بار بار کیے جانے والے ڈرون حملوں میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماعات اور فوجی ٹھکانوں کو جبکہ الگ الگ کارروائیوں میں کم از کم چار" مرکاوا" ٹینکوں اور دو" ڈی9" بلڈوزر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ گروپ نے یہ بھی کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے حدّاثہ کی طرف بڑھنے والی اسرائیلی افواج کا مقابلہ کیا اور تقریباً 30 منٹ تک آرٹلری اور راکٹ فائر سے معاون یونٹوں کو نشانہ بنایا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے وسطی سیکٹر میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے ایک اسرائیلی" ہرمیس 450 " ڈرون کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی لبنان میں ایک دھماکہ خیز ڈرون گرنے سے دو افسران سمیت سات فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ فوج نے بتایا کہ ایک خاتون فوجی شدید زخمی ہوئی جبکہ دو افسران اور دو فوجی درمیانے درجے کے زخمی ہوئے۔ ۔ لبنان بھر میں اسرائیلی حملے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں جو باضابطہ طور پر 17 اپریل کو نافذ ہوئی تھی اور بعد میں جولائی کے آغاز تک اس میں توسیع کر دی گئی تھی۔
لبنانی حکام کے مطابق، 2 مارچ سے اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر جارحیت شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 3,073 افراد ہلاک، 9,362 زخمی اور 1.6 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔
