مسٹر گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر لکھا کہ کانگریس ڈرنے والی نہیں ہے اور پیپر لیک روکنے کے لیے مضبوط نیز محفوظ نظام نافذ ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹ پیپر لیک سے لاکھوں طلباء کا مستقبل متاثر ہوا ہے اور حکومت اس معاملے میں جوابدہی طے کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی اٹلی میں تھے، اس وقت پیپر لیک سے پریشان ملک کے نوجوان سڑکوں پر انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹ پیپر لیک سے لاکھوں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور کئی طلباء نے اپنی جان تک گنوا دی، لیکن حکومت نے نہ تو ذمہ داری لی، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہٹایا اور نہ ہی اس معاملے پر کچھ کہا۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ جب طلباء، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) اور کانگریس کارکنان انصاف کی آواز بلند کر رہے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاستوں میں ان کے خلاف لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کے سوالات کا جواب لاٹھی سے دینے والی حکومت جوابدہی سے نہیں بلکہ خوف سے چلتی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کانگریس کی یہ لڑائی ہر اس طالب علم کے لیے ہے جس کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک روکنے کے لیے مضبوط سکیورٹی نظام قائم ہونے تک کانگریس کی لڑائی رکے گی نہیں۔
