انھوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کا بنیادی کام تاریخی آثار کو ان کی اصل ہیئت کے ساتھ محفوظ رکھنا ہے اور اگر یہی محکمہ فرقہ وارانہ ایجنڈے کی تکمیل کا آلہ کار بن جائے تو پھر ملک کی تاریخ اور تہذیب کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
واضح رہے کہ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں تاریخی شہادتوں، ریوینیو ریکارڈ اور دھار ریاست کے گزٹ نوٹیفکیشن کو نظر انداز کرکے محض محکمہ آثار قدیمہ کی مجہول رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے، جو انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔
معصوم مرادآبادی نے مزید کہا کہ عدالت عالیہ کی طرف سے سات سوسالہ قدیم مسجد کو مندر قرار دے کر وہاں پوجا پاٹ کی اجازت دینا انصاف کی روح کے منافی ہے، کیونکہ کمال مولا مسجد میں صدیوں سے نماز ہوتی چلی آرہی ہے۔ انھوں نے اس معاملے میں مدھیہ پردیش کی بی جے پی سرکار کے کردار پر بھی سوال اٹھایا جس نے عدالت میں داخل اپنے حلف نامے میں یہ سفید جھوٹ بولا کہ یہاں کبھی نماز نہیں ہوئی، اس لیے مسلمانوں کو یہاں نماز پڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
معصوم مرادآبادی نے کہا کہ عدالتوں میں تاریخی مسجدوں کے خلاف جو مقدمات دائر کئے جارہے ہیں، وہ ایک منظم ساز ش کا حصہ ہیں، جن کا مقصد اس ملک سے مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کو مٹانا اور ان کے دستوری حقوق کو سلب کرنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے سپریم کورٹ اس معاملے میں انصاف کرے کیوں کہ اسی نے کمال مولا مسجد کے پیروکاروں سے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے کہا تھا۔
