Masarrat
Masarrat Urdu

کشمیر کے لیے مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں: محبوبہ مفتی

Thumb

سری نگر، 17 مئی (مسرت ڈاٹ کام) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اتوار کو پاکستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی بھرپور وکالت کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام سے رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے “زخموں پر مرہم رکھا جائے” اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔

سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ایک سینئر رہنما کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا، جس میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کی حمایت کی گئی تھی، اور اسے “مثبت پیش رفت” قرار دیا۔

انہوں نے کہاکہ“پاکستان سے بات چیت کرنا ایک بہت اچھی بات ہے۔ سری نگر کو جوڑنے والے راستے دوبارہ کھولے جانے چاہئیں اور مفاہمت کا عمل دوبارہ جموں و کشمیر سے شروع ہونا چاہیے۔”

پی ڈی پی سربراہ نے لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور سفر کی بحالی پر زور دیا، خاص طور پر مظفرآباد، اُڑی اور راولاکوٹ کے تاجروں کی شمولیت کے ساتھ اور اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر عید سے قبل زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے شہری علاقوں میں فوجی موجودگی کم کرنے اور نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کو سونپے گئے بجلی منصوبوں کو دوبارہ جموں و کشمیر کے حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

محبوبہ مفتی نے بات چیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن اور استحکام صرف مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ “ہم کسی سازش کی بات نہیں کر رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کشمیر اور اُس کشمیر (پی او کے) کے درمیان راستے کھلیں اور وسطی ایشیا کی جانب بھی رسائی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے لوگ آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔”

سابق وزیر اعلیٰ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے)، پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (افسپا) کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ اگر حالات بہتر ہوئے ہیں تو حکومت کو “عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے”۔

نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کے پاس جموں و کشمیر مسئلے کے دیرپا حل کی شروعات کرنے کی سیاسی طاقت موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ “اگر مودی جی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے پاس جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے اور یہاں کے لوگوں کے زخم بھرنے کا سنہری موقع ہے۔”

قبل ازیں پارٹی کارکنان کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ دہلی کو بالآخر کشمیریوں کی آواز سننا ہوگی اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیر مسئلے کا حل “آئین کے دائرے” میں رہتے ہوئے پُرامن بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے کہاکہ “ہم مذاکرات اور رابطے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم عزت کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔”

محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس جموں و کشمیر مسئلے کا پائیدار حل شروع کرنے کی سیاسی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ “ترقی اچھی بات ہے، لیکن بات چیت آپ کو خطے اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ایک مدبر رہنما بنا سکتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں امن وسیع علاقائی استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کی جانب سے امن کی کوششوں کا مثبت جواب دینا چاہیے، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ کشمیری نوجوان عزت، امید اور مواقع کے مستحق ہیں اور انہیں خوف اور خاموشی سے پاک ماحول ملنا چاہیے۔

 

Ads