Masarrat
Masarrat Urdu

ہائی بلڈ پریشر کے شکار صرف 10 سے 12 فیصد ہندوستانی ہی اپنا بلڈ پریشر قابو میں رکھ پاتے ہیں

Thumb

نئی دہلی، 17 مئی (مسرت ڈاٹ کام) ہندوستان میں اندازاً 22 کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون) کا شکار ہیں، لیکن ان میں سے صرف 10 سے 12 فیصد لوگ ہی اپنے بلڈ پریشر کو مناسب حد تک قابو میں رکھ پاتے ہیں۔

میدانتا - دی میڈی سٹی ہارٹ سینٹر کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر (پروفیسر) ترون کمار نے عالمی یومِ ہائی بلڈ پریشر کے موقع پر اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ “ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل ہے اور ہندوستان کو دنیا کا ہائی بلڈ پریشر دارالحکومت کہا جا سکتا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا 50 فیصد سے زیادہ افراد اپنی بیماری سے ہی ناواقف ہیں۔

ڈاکٹر ترون کمار نے کہا کہ جن افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوتی ہے اور علاج شروع کیا جاتا ہے، ان میں سے تقریباً نصف لوگ دوائیں لینا بند کر دیتے ہیں۔ جبکہ علاج جاری رکھنے والوں میں بھی تقریباً 50 فیصد افراد مناسب بلڈ پریشر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ نتیجتاً صرف چند مریض ہی تجویز کردہ حد کے اندر بلڈ پریشر برقرار رکھ پاتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بے قابو ہائی بلڈ پریشر سے دل کا دورہ، فالج، گردوں کی خرابی اور دیگر سنگین قلبی پیچیدگیوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

موجودہ طبی رہنما اصولوں کے مطابق 120/80 سے کم بلڈ پریشر کو معمول کے مطابق سمجھا جاتا ہے، جبکہ 130/80 یا اس سے زیادہ بلڈ پریشر کو ہائی بلڈ پریشر تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے طبی توجہ ضروری ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ترون کمار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بہت سے مریضوں کے لیے ادویات ضروری ہیں، لیکن ہائی بلڈ پریشر کی روک تھام اور کنٹرول میں غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے ایسی غذائی منصوبہ بندی اپنانے کا مشورہ دیا جس میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، مچھلی، مرغی، دالیں، میوہ جات اور بیج شامل ہوں۔ انہوں نے روزانہ 2,300 ملی گرام سے کم سوڈیم لینے کی سفارش کی، جبکہ اسے 1,500 ملی گرام تک محدود کرنے کو مزید فائدہ مند قرار دیا، اور زیادہ چکنائی اور اضافی شکر والی غذا سے پرہیز پر زور دیا۔

ڈاکٹر ترون کمار نے کہا کہ ملک میں ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ، تجویز کردہ ادویات کا مسلسل استعمال، ہلکی ورزش، چہل قدمی اور صحت مند غذائی عادات اپنانا نہایت ضروری ہے۔

 

Ads