Masarrat
Masarrat Urdu

امریکی حملوں کے بعد ایران کا سخت ردعمل، واشنگٹن کو نتائج کا ذمہ دار قرار دے دیا

  • 07 Jun 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 7 جون (مسرت ڈاٹ کام) ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے غیر قانونی اقدامات اور خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی نئی کشیدگی کے نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔

وزارت خارجہ کا یہ بیان امریکی افواج کی جانب سے قشم اور سیریک کے علاقوں میں ایرانی ساحلی نگرانی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ کشیدگی کم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

بیان میں سیریک اور جزیرہ قشم میں ریڈار اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر حملوں کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران کے حقِ دفاع پر زور دیا گیا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایرانی ریڈار مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ اس سے قبل چار ایرانی ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا تھا جن کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں شہری بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ سیریک اور قشم پر حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

اس کے ساتھ ہی امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا کہ ایران نے کویت اور بحرین کی سمت سات بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے چھ کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج کو کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے سے متعلق ایرانی دعوے درست نہیں ہیں۔

دوسری جانب بحرین اور کویت نے ایرانی میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں دونوں ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

کویتی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں کا مقابلہ کیا اور خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں خطے میں خطرناک کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

بحرین اور کویت نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسی کارروائیاں بند کرے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرے۔

 

 

Ads