کانفرنس کا مقصد شہری حقوق، آئینی اقدار، قانونی بیداری اور سماج میں بڑھتی ہوئی نفرت، امتیاز اور آمرانہ رجحانات جیسے مسائل پر گفتگو کرنا تھا۔
پروگرام کی شروعات مقامی نوجوان وکلا اور شعراء کی ثقافتی پیشکش سے ہوئی۔ اس کے بعد جاوید اختر نے استقبالیہ خطاب کیا۔ پروگرام کی نظامت ایڈووکیٹ فواز شاہین نے کی، جبکہ زید پٹھان اور ان کی ٹیم نے انتظامات میں تعاون کیا۔
اے پی سی آر کی بنیاد 2006 میں رکھی گئی تھی۔ یہ ایک قومی سطح کی تنظیم ہے جو ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں قانونی امداد، فیکٹ فائنڈنگ، دستاویزات تیار کرنے، قانونی بیداری اور عوامی حقوق کی مہمات پر کام کرتی ہے۔ اس تنظیم میں وکلا، ریٹائرڈ جج، اساتذہ، صحافی، طلبہ اور سماجی کارکن شامل ہیں۔
ایڈووکیٹ اشرف علی نے مدھیہ پردیش میں اے پی سی آر کی حالیہ سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نفرت پر مبنی جرائم اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف وکلا، سماجی کارکنان اور عام لوگوں کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
سینئر ایڈووکیٹ ریکھا شریواستو نے مدھیہ پردیش میں اے پی سی آر کے بڑھتے ہوئے کام کی تعریف کی اور تنظیم کی حمایت کا اعلان کیا۔
نیَمچ، اندور، کھنڈوا، کھرگون اور دیگر اضلاع سے آئے نمائندوں نے اے پی سی آر کے تعاون سے کیے گئے قانونی اور سماجی کاموں کے تجربات بیان کیے۔ کھنڈوا کے قاضی اشفاق علی نے ٹٹگاؤں معاملے کا ذکر کیا، جہاں قانونی مداخلت کے ذریعے زمین اور مکانات ہٹانے کی کارروائی میں راحت ملی۔
کئی مقررین نے کہا کہ اے پی سی آر نے ہمیشہ مذہب اور ذات سے اوپر اٹھ کر مظلوم لوگوں کی مدد کی ہے۔
سابق ڈی جی پی وزیر احمد انصاری نے مدھیہ پردیش میں اقلیتوں اور درج فہرست ذات و قبائل کی حالت پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بھوپال میں ہائی کورٹ بنچ کی کمی اور گوشت کی نقل و حمل اور مذہب تبدیلی مخالف قوانین کے غلط استعمال پر سوال اٹھائے۔
اے پی سی آر کے قومی سیکریٹری ندیم خان نے تنظیم کی قومی رپورٹ پیش کی اور مختلف ریاستوں میں قانونی بیداری، مقدمات، فیکٹ فائنڈنگ اور دستاویزی کاموں کی معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ ناانصافی کا شکار لوگ، چاہے دور دراز دیہات میں ہی کیوں نہ ہوں، اکیلے نہیں ہیں اور انصاف کے لیے اجتماعی قانونی جدوجہد ضروری ہے۔؎
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاضیٔ شہر بھوپال مفتی مشتاق ندوی مدنی اور نائب قاضیٔ شہر مفتی آلِ قدر نے کہا کہ انصاف حاصل کرنے کے لیے متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے۔ مفتی مشتاق ندوی نے کہا کہ انصاف کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ملک کے لوگوں کو اسلام سے واقف کرانے کی بھی ضرورت ہے۔
استاد اور مصنف پروفیسر اپوروآنند جھا نے سماج میں بڑھتی نفرت اور فرقہ وارانہ تقسیم پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی لڑائی صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے اندر بھی اسے مضبوط کرنا ہوگا۔
انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے ملک میں بڑھتے ہوئے نفرت اور تقسیم کے ماحول پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اور سیکولر اقدار کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری طاقتوں کو متحد ہونا ہوگا۔
سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے صرف عدالتوں میں لڑائی کافی نہیں بلکہ عوام کی فعال شرکت بھی ضروری ہے۔
اے پی سی آر کے جنرل سیکریٹری ملک معتصم خان نے ان حکومتوں کے کردار پر سوال اٹھایا جو عوام کی زمین، روزگار اور آئینی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہتی ہیں۔
کانفرنس میں قبائلی تنظیموں، او بی سی مہاسبھا، آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن (AIDWA)، علماء، وکلا اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
پروگرام کے دوران اے پی سی آر مدھیہ پردیش کی قانونی سرگرمیوں پر رپورٹ پیش کی گئی، جس میں ہیٹ کرائم، غلط ایف آئی آر، قانونی امداد اور دستاویزات سے متعلق معاملات شامل تھے۔ کانفرنس سے بائیں بازو کے رہنما شیلندر کمار شیلی نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں ڈاکٹر فضل، انور پٹھان اور ایڈووکیٹ زبیر الٰہی بھی موجود رہے۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک اعزازی تقریب منعقد کی گئی، جس میں اے پی سی آر مدھیہ پردیش کی مختلف ٹیموں کو ان کی سماجی اور تنظیمی خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا۔
