فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی بمباری کے نتیجے میں متعلقہ مقام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور پہاڑ اس پر گر پڑا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر ماہرین کا خیال تھا کہ وہاں تک پہنچنا ناممکن ہوگا، لیکن وہ اب بھی اس مواد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور پُرامید ہیں کہ امریکہ اسے حاصل کر لے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات پر دوبارہ بمباری بھی کر سکتا ہے تاکہ وہاں موجود یورینیم تک کسی کی رسائی ممکن نہ ہو۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ ایرانی جوہری مراکز کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، جنہیں حالیہ امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
