تہران، 14 مئی (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرم نیا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے بدھ کے روز مشہد میں حرم امام رضاؑ میں سابق چیف آف اسٹاف شہید عبدالرحیم موسوی کی شہادت کے چالیسویں دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب امریکہ کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ آبنائے ہرمز کے راستے اپنے ہتھیار خطے میں موجود فوجی اڈوں تک منتقل کرے۔ ان کے بقول، جو بھی ملک اس آبی گزرگاہ سے گزرنا چاہے گا، اسے ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں گزرنا ہوگا تاکہ یہ آمدورفت کسی نقصان کے بغیر انجام پائے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کا کنٹرول پاسداران انقلاب کی بحریہ کے پاس ہے جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ اور مربوط کنٹرول سے نہ صرف خطے میں ایران کی نگرانی اور بالادستی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کو تیل کی آمدنی سے دو گنا زیادہ مالی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
امیر اکرم نیا نے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ اچانک حملوں، خوف و ہراس پیدا کرنے اور رہبر انقلاب و اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر عوام کو صدمے میں مبتلا کیا جا سکتا ہے اور تین دن کے اندر نظام کو گرا دیا جائے گا، لیکن ان کے اندازوں کے برعکس عوام حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اپنے نظام اور سرزمین کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، جس سے قومی اتحاد مزید مضبوط ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن نے ایران پر حملے کے لیے 20 سال منصوبہ بندی کی تھی، لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایرانی مسلح افواج نہ صرف اپنی جنگی صلاحیت برقرار رکھیں گی بلکہ میزائل حملوں اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے مقاصد کو ناکام بھی بنا دیں گی، اور یہی مزاحمت آج ایران کی کامیابی کی بڑی وجہ بنی۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ حالیہ جنگ میں دشمن کے اہداف میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیت کو تباہ کرنا، ملک کو تقسیم کرنا اور نظام کو گرانا شامل تھا، لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے شہید میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے دفاعی نظریے کو دفاعی حکمت عملی سے جارحانہ حکمت عملی میں تبدیل کرنے والے معمار تھے۔
بریگیڈیئر جنرل اکرم نیا نے کہا کہ آج ایرانی مسلح افواج کا عسکری نظریہ جارحانہ نوعیت کا ہے، یعنی اگر دشمن کسی بھی قسم کی غلطی کرے گا تو اسے انتہائی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، اور حالیہ جنگ میں یہی حکمت عملی عملی طور پر ثابت ہوئی۔
