پی ایم مودی نے سکندرآباد کے پریڈ گراؤنڈ میں تلنگانہ بی جے پی کی جانب سے منعقدہ ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کا پارٹی کے ترقیاتی اور حکمرانی کے ماڈل پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہاں کے عوام نے آمرانہ سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور بی جے پی کی ترقی اور بہتر حکمرانی کی سوچ کو قبول کیا ہے۔ پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی زوردار تالیوں کے درمیان مسٹر مودی نے کہا، آج تلنگانہ کے عوام بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اس بار ریاست میں بی جے پی کی باری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ترقی میں تلنگانہ نے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق جب قومی سطح پر بی جے پی کے صرف دو ارکانِ پارلیمنٹ تھے، تب پارٹی کے ابتدائی اراکین میں سے ایک اسی خطے سے منتخب ہو کر آئے تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے میں تلنگانہ اور حیدرآباد کا کردار نہایت اہم ہوگا۔
انہوں نے ریاست میں شروع کی گئی ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع میں تیزی آئے گی۔
ظہیرآباد صنعتی کوریڈور اور ورنگل میں قائم ہونے والے پی ایم مترا ٹیکسٹائل پارک کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان منصوبوں سے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہوگا اور تلنگانہ کے کسانوں، مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز نے کپاس کی پیداوار اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک نئے کاٹن مشن کی منظوری دی ہے، جس سے ریاست کے کپاس کاشتکاروں کو خاص فائدہ ہوگا۔
وزیر اعظم نے کانگریس پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس حکومتوں نے انتخابات سے پہلے ایسے وعدے کیے جو پورے نہیں کیے جا سکتے تھے، اور اقتدار میں آنے کے بعد وہ انہیں نافذ کرنے میں ناکام رہیں۔
انہوں نے کانگریس پر تقسیم کی سیاست کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے گزشتہ چند برسوں میں بالواسطہ طور پر ماؤ نواز نظریات کی حمایت کی ہے۔
