Masarrat
Masarrat Urdu

اقوام متحدہ: ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت میں شریک ممالک نقصانات کا ازالہ کریں، ایرانی مندوب

  • 01 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

اقوام متحدہ،  یکم مئی (مسرت ڈاٹ کام) ایران نے اقوام متحدہ میں کہا کہ وہ تمام ممالک جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت میں شامل رہے، بین الاقوامی قوانین کے تحت جوابدہ ہوں اور ایران کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کریں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران قطر، مملکت بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور مملکت اردن کی جانب سے بھیجے گئے خطوط میں درج تمام بے بنیاد الزامات اور مکمل طور پر غیر مستند دعووں کو سختی اور قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے زور دے کر کہا کہ قطر، مملکت بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مملکت اردن کی طرف سے اپنے اقدامات کو دفاع قرار دیا گیا جبکہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 میں دی گئی تعریف کے مطابق جائز اور قانونی دفاع نہیں ہے۔ بلکہ یہ اقدامات ان ریاستوں کے بین الاقوامی غیر قانونی اقدامات ہیں جو 14 دسمبر 1974 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 3314 کے آرٹیکل 3 کی شق (ج) کے مطابق جارحیت کی کارروائی شمار ہوتے ہیں۔

ایروانی نے اپنے خط میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور اردن کی طرف سے عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات اور غیر مستند دعووں کو مکمل طور پر اور سختی سے رد کرتا ہے۔ ان ریاستوں نے دانستہ موجودہ صورتحال کی اصل بنیادوں سے چشم پوشی کی ہے اور اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے جارحانہ اقدامات انجام دیے ہیں اور ایران کے خلاف بلاجواز اور غیر قانونی حملے کیے ہیں۔ ان ممالک نے کوشش کی ہے کہ اصل اور قانونی حقیقت کو مسخ کرتے ہوئے ذمہ داری کو غلط طور پر اسلامی جمہوریہ ایران پر ڈال دیں، حالانکہ ایران خود اس وحشیانہ جارحانہ جنگ کا نشانہ بنا ہے۔

ایروانی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے غیر قانونی استعمال اور فوجی حملے، بین الاقوامی قانون کی شدید، منظم اور وسیع خلاف ورزیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قطر، بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کی جانب سے ایران کے فراہم کردہ ان شواہد کو مکمل طور پر رد کرنا ایران کی مسلح افواج کے مشاہداتی ڈیٹا اور امریکی سینٹکام کے حالیہ بیانات دونوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے 16 اپریل 2026 کو پینٹاگون کی پریس کانفرنس میں کہا کہ خلیج فارس کے ساحلی ممالک نے علاقے میں موجود امریکی افواج کی خدمات کو سراہا ہے اور اس بات کو دہرایا ہے کہ بحرین، امارات، سعودی عرب، قطر، کویت اور اردن غیر معمولی شراکت دار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اپریل 2026 میں ایران کے اوپر مار گرائے گئے ایک دشمن ڈرون سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اس مشترکہ حملے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل تھے، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل ایسے ڈرون استعمال نہیں کرتے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران ایک بار پھر اپنا واضح مؤقف دہراتا ہے کہ وہ تمام ریاستیں جنہوں نے امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف جارحیت میں کردار ادا کیا ہے، ان سب کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے موجودہ صورتحال کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے میں مسلسل ناکامی، اور ساتھ ہی ان ریاستوں کی شمولیت جو یا تو ایسے غیر قانونی اقدامات میں سہولت کار تھیں یا براہِ راست شامل تھیں، بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے ساحلی ممالک بشمول قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو ایران کے خلاف ان کے بین الاقوامی غیر قانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے میں سلامتی کونسل کی ناکامی کے باوجود یہ ریاستیں اسلامی جمہوری ایران کو مکمل معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہیں، جس میں ان کے غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والے تمام مادی اور معنوی نقصانات کا ازالہ شامل ہے۔

Ads