یہ پیش رفت جسٹس شرما کے اس تفصیلی حکم کے چند دن بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کیس کی سماعت سے ہٹنے سے انکار کردیاتھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ’دباؤ میں جھکنے سے انصاف نہیں ملتا‘ اور جج کسی مدعی کے بے بنیاد اندیشوں کی بنیاد پر خود کو سماعت سے الگ نہیں کرسکتے۔
جسٹس شرما نے یہ بھی تبصرہ کیا تھا کہ ان پر ذاتی حملے عدلیہ پر حملے کے مترادف ہیں اور درخواست کو ’اندازوں‘ اور ’مبینہ جھکاؤ‘ پر مبنی قراردیتے ہوئے خارج کردیا تھا۔
اس کے بعد، مسٹر کیجریوال نے خط لکھ کر کہا کہ انہوں نے اس عدالت سے ’انصاف ملنے کی امید کھودی ہے‘ اور مہاتما گاندھی کے ’ستیہ گرہ‘ کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی ’ضمیرکی آواز‘ سننے کے بعد کیا ہے۔
کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود، مسٹر کیجریوال نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
