Masarrat
Masarrat Urdu

ارکانِ پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے کے بعد 'عآپ' کا جوابی حملہ، پنجاب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے 'آپریشن لوٹس' کا الزام

Thumb

نئی دہلی، 24 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی (عآپ) نے جمعہ کو اپنے سات راجیہ سبھا ارکانِ پارلیمنٹ کے استعفیٰ دینے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کے اعلان کے بعد سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ 'عآپ' نے اسے بی جے پی کی جانب سے پنجاب میں اپنی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے "آپریشن لوٹس" کے تحت رچی گئی ایک بڑی سیاسی سازش قرار دیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 'عآپ' کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ بھگونت مان کی قیادت میں پنجاب حکومت کو گرانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

سنجے سنگھ نے کہا، "بی جے پی پنجاب کی بھگونت مان حکومت کے ذریعے کیے جا رہے اچھے کاموں میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ اب 'عآپ' کے سات راجیہ سبھا ارکان بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے عوام کو یہ سات نام یاد رکھنے چاہئیں، وہ انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔" انہوں نے اس واقعہ کو دھوکہ دہی قرار دیتے ہوئے کہا، "یہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے اور پنجاب کے عوام ان 'غداروں' کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔"

سنجے سنگھ نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت میں مرکزی ایجنسیوں جیسے ای ڈی اور سی بی آئی کا استعمال کر کے "آپریشن لوٹس" چلا رہی ہے تاکہ اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، "جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کو توڑنے اور پنجاب کے نظم و نسق کو درہم برہم کرنے کے لیے یہ ایک گہری سازش ہے۔"

یہ تند و تیز ردعمل اس وقت سامنے آیا جب راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک، اشوک متل، راجندر گپتا، ہربھجن سنگھ، سواتی مالیوال اور وکرم جیت سنگھ ساہنی جیسے سینئر رہنماؤں نے نظریاتی اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے 'عآپ' چھوڑنے اور بی جے پی میں ضم ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس ڈرامائی تبدیلی کے بعد 'عآپ' اور بی جے پی کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

 

Ads