برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے وارننگ 038-26 جاری کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک کنٹینر جہاز متاثر ہوا، جس کے کچھ کنٹینرز کو نقصان پہنچا، تاہم آگ لگنے یا ماحولیاتی خطرے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آڈیو ریکارڈنگ سے اشارہ ملتا ہے کہ آئی آر جی سی کی گن بوٹس نے جہازوں پر فائرنگ کی اور انہیں مغرب کی جانب رخ موڑنے پر مجبور کیا۔
اس واقعے میں شامل جہازوں میں ایک بہت بڑا کروڈ کیریئر بھی تھا، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ کچھ تجارتی جہازوں کو ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر جہاز رانی کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے علاقے میں ہندوستانی پرچم بردار دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعے پر وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کے روز ایران کے سامنے سخت احتجاج درج کرایا۔
جاری سرکاری بیان کے مطابق اس سنگین سکیورٹی چوک پر تشویش ظاہر کرنے کے لیے ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی کو طلب کیا گیا۔ خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے ان سے ملاقات کر کے ہندوستان کی گہری ناراضگی سے آگاہ کیا۔
ملاقات کے دوران مسری نے کہا کہ ہندوستان تجارتی جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی کو اعلیٰ ترین ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر میں شہری جہازوں پر اس طرح کی فائرنگ کے واقعات نہایت سنگین ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ماضی کے ان مواقع کا بھی ذکر کیا جب ایران نے ہندوستان آنے والے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں تعاون کیا تھا۔
خارجہ سکریٹری نے ایرانی سفیر سے کہا کہ وہ ہندوستان کے ان خیالات اور خدشات کو اپنے ملک کے اعلیٰ حکام تک پہنچائیں۔ ہندوستان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس علاقے سے گزرنے والے ہندوستانی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا نظام جلد از جلد بحال کیا جائے۔
ایرانی سفیر نے یہ پیغام اپنی حکومت تک پہنچانے کا یقین دلایا۔
