وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی خواتین کو ان کے حقوق دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ہر حال میں خواتین کو ان کا حق دلائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ملک کی آدھی آبادی کو انصاف فراہم کرنے کے اپنے عہد کو ضرور پورا کرے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کے حق میں پیش کیے گئے بل کو پاس کروانے میں ناکام رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے خواتین مخالف رویے کی وجہ سے یہ بل منظور نہیں ہو سکا، اس لیے وہ ملک کی خواتین سے اس پر معذرت خواہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب خواتین کے حقوق سلب کیے جا رہے تھے تو اپوزیشن جماعتیں جشن منا رہی تھیں اور میزیں بجا رہی تھیں۔ اس سے خواتین کی عزت نفس اور خودداری کو ٹھیس پہنچی، لیکن وہ جشن مناتے رہے، جسے ملک کی نئی نسل کبھی برداشت نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا، وہ انڈین نیشنل کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کی وجہ سے ہوا، اور 21ویں صدی کی خواتین ملک کی ہر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے آدھی آبادی کو ان کا حق دینے کا مقدس کام کیا، لیکن اپوزیشن نے اس میں رکاوٹ ڈالی اور خواتین کو ان کا حق نہیں ملنے دیا۔ تاہم، ان کی حکومت خواتین کو ان کا حق دے کر رہے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کئی علاقائی جماعتوں نے کانگریس کے ساتھ مل کر اس بل کی مخالفت کی اور اسے پاس نہیں ہونے دیا، اور اس طرح کانگریس نے ان جماعتوں کے مستقبل کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ْ
انہوں نےسماج وادی، ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے پر خواتین مخالف ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ ملک کی آدھی آبادی ان جماعتوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
وزیر اعظم نے کانگریس پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا کام ہمیشہ معاملات کو لٹکانا اور بھٹکانا رہا ہے، اور آج بھی وہ اسی اصول پر کام کر رہی ہے، جس کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جن دھن، آدھار، موبائل، استری شکتی اور "ون نیشن ون الیکشن" جیسے قوانین کی بھی مخالفت کی ہے۔
مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ جن جماعتوں نے یہ "جرم" کیا ہے، ملک کی خواتین انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گی اور جب بھی وہ ان جماعتوں کو دیکھیں گی تو اس کی کسک ان کے دلوں میں باقی رہے گی۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس "بے عزتی" کی سزا ملک کی خواتین ضرور دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جو دہائیوں سے زیر التوا تھے، انہیں 2029 سے نافذ کیا جانا تھا، لیکن خواتین کو نئے مواقع دینے اور آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے خواتین کو انصاف دینے کا ایک مقدس عمل قرار دیا۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کو روک کر "بھرون ہتھیا" جیسا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسے جماعتیں اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس بار بھی اس نے مختلف "جھوٹ" کا سہارا لے کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اس سے کانگریس اور اس کے حامیوں کا "چہرہ بے نقاب" ہو گیا ہے اور وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بل تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا اور اگر یہ منظور ہو جاتا تو نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور عوام کی آواز مزید مضبوطی سے اسمبلی اور لوک سبھا تک پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال کر خواتین کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اصلاحاتی اقدامات جیسے یکساں سول کوڈ، ووٹر لسٹ کی درستگی، وقف قوانین اور ماؤ نواز تشدد کے خاتمے جیسے اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے ملک اپنی مکمل ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
