ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے مسٹر ہری ونش کو ڈپٹی چیئرمین منتخب کرنے کی تجویز پیش کی جس کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن ایس پھانگنون کونیاک نے تائید کی۔ ایوان نے اس تجویز کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ وہ اس عہدے پر مسلسل تیسری بار منتخب ہوئے ہیں۔ تجویز پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن کے ارکان نے اس سلسلے میں کچھ کہنا چاہا لیکن چیئرمین نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ اپوزیشن کی جانب سے اس عہدے کے لیے کسی کی نامزدگی نہیں کی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی نامزد رکن کو ایوان کا ڈپٹی چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔
چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ضروری قانون سازی کی دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا عمل شروع کرتے ہوئے مسٹر نڈا سے اپنی تجویز پیش کرنے کو کہا۔ کل پانچ ارکان نے مسٹر ہری ونش کے انتخاب کے لیے تجاویز پیش کیں۔ مسٹر نڈا کے علاوہ بی جے پی صدر اور ایوان کے رکن نتن نوین نے بھی تجویز پیش کی جس کی تائید بی جے پی کے برج لال نے کی۔ تیسری تجویز وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پیش کی اور اس کی تائید بی جے پی کے سریندر سنگھ ناگر نے کی۔ اس کے علاوہ سنجے کمار جھا کی تجویز کی تائید اوپیندر کشواہا نے اور جینت چودھری کی تجویز کی تائید ملند مرلی دیوڑا نے کی۔
مسٹر نڈا کی تجویز کو ایوان نے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ چیئرمین نے انہیں ایوان کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد مسٹر نڈا اور اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے مسٹر ہری ونش کو ان کی نشست تک لے گئے۔
ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کی قائم کردہ روایت کے مطابق ایوان میں تمام تجاویز ایک ایک کر کے پیش کی جاتی ہیں اور اگر کوئی ایک تجویز ایوان کی طرف سے منظور ہو جاتی ہے تو باقی تجاویز بے معنی ہو جاتی ہیں اور ان پر ووٹنگ نہیں کرائی جاتی۔ آج بھی مسٹر نڈا کی تجویز کی منظوری کے بعد باقی چاروں تجاویز بے معنی ہو گئیں۔ مسٹر ہری ونش کی بطور رکن دوسری مدت گزشتہ 9 اپریل کو ختم ہوئی تھی اور اس کے ایک دن بعد ہی انہیں تیسری مدت کے لیے صدر جمہوریہ نے ایوانِ بالا میں نامزد کیا تھا۔
مسٹر ہری ونش کی راجیہ سبھا میں پہلی مدت 10 اپریل 2014 میں شروع ہوئی تھی اور وہ 8 اگست 2018 میں پہلی بار ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ 2020 میں مدت ختم ہونے کے بعد انہیں دوسری بار راجیہ سبھا کے لیے منتخب کیے جانے پر 14 ستمبر 2020 کو دوبارہ ڈپٹی چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔
