آخری رسومات کے موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سنیترا پوار سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ فلمی دنیا سے عامر خان، انو ملک، وکی کوشل اور شان سمیت کئی فنکاروں نے شرکت کی۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان غمزدہ مداحوں کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔
آشا بھوسلے کا انتقال 12 اپریل 2026 کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں ہوا، جہاں وہ 11 اپریل 2026 سے زیر علاج تھیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق وہ سینے کے انفیکشن، شدید کمزوری اور ملٹی آرگن فیلئر کے باعث انتقال کر گئیں۔ ڈاکٹر پرتیت سمدانی نے ان کی موت کی وجوہات کی تصدیق کی۔
ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے آخری رسومات کی تفصیلات جاری کیں۔ اس سے قبل ان کا جسدِ خاکی لوئر پریل میں واقع ان کی رہائش ’’کاسا گرانڈے‘‘ میں صبح 11 بجے سے دوپہر 2:30 بجے تک عوام کے دیدار کے لیے رکھا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے انہیں آخری خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں ان کا جسدِ خاکی ایک سوگوار جلوس کی صورت میں دادَر کے شیواجی پارک شمشان گھاٹ منتقل کیا گیا، جہاں راستے بھر لوگوں نے پھول نچھاور کر کے عقیدت کا اظہار کیا۔
آشا بھوسلے کی پیدائش 8 ستمبر 1933 کو مہاراشٹر کے سنگلی میں ہوئی تھی۔ وہ عظیم کلاسیکی گلوکار پنڈت دیناناتھ منگیشکر کی بیٹی تھیں۔ انہوں نے 1940 کی دہائی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے کیریئر میں 20 سے زائد زبانوں میں 12 ہزار سے زیادہ گیت گائے، جس کے باعث انہیں دنیا میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرنے والی گلوکارہ کے طور پر بھی پہچان ملی۔
ان کی گائیکی میں بے مثال تنوع پایا جاتا تھا، جس میں ’’پیا تو اب تو آجا‘‘، ’’دم مارو دم‘‘ جیسے نغموں سے لے کر غزلوں اور بھجن تک ہر صنف شامل تھی۔ انہوں نے بھارتی فلمی موسیقی میں خواتین پلے بیک سنگنگ کے دائرے کو نئی وسعت دی۔
اپنے شاندار کیریئر کے دوران انہیں پدم وبھوشن، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ (2000)، دو نیشنل فلم ایوارڈز، سات فلم فیئر ایوارڈز، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور مہاراشٹر اسٹیٹ فلم ایوارڈز سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ گریمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی پہلی بھارتی گلوکارہ بھی تھیں۔
ملک بھر سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جہاں گلوکار سونو نگم نے انہیں ’’ہندستانی موسیقی کے سنہرے دور کی آخری عظیم آواز‘‘ قرار دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر دروپدی مرمو سمیت کئی اہم شخصیات نے بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ان کے انتقال کے ساتھ ہی ہندستانی موسیقی کی تاریخ کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے۔ منگیشکر خاندان، جس نے دہائیوں تک بھارتی سنیما کی موسیقی کو شکل دی، اب ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ آشا بھوسلے کی آواز اگرچہ ہمیشہ ان کے گیتوں میں زندہ رہے گی، لیکن 13 اپریل 2026 ہمیشہ اس بات کی یاد دلاتا رہے گا کہ ایک سنہرا عہد واقعی ختم ہو گیا۔
