محترمہ گاندھی نے پیر کو یہاں واضح طور پر کہا کہ موجودہ وقت میں اصل تشویش خواتین کا ریزرویشن نہیں، بلکہ مجوزہ حد بندی ہے، جسے انہوں نے "انتہائی خطرناک" اور "آئین پر حملہ" قرار دیا ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے خبردار کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں جس طرح سے حد بندی کا معاملہ سامنے آ رہا ہے، وہ جمہوری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جلد بازی میں اس موضوع کو آگے بڑھا رہی ہے، جس کے پیچھے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سے حمایت تو مانگی جا رہی ہے لیکن اس اہم معاملے پر شفافیت نہیں برتی جا رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے کل جماعتی اجلاس کے مطالبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ محترمہ گاندھی نے یاد دلایا کہ 2023 میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ 'ناری شکتی وندن ادھینیم' کے تحت لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی گنجائش پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ تاہم، اس کے نفاذ کے لیے مردم شماری اور حد بندی ضروری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت 2029 سے خواتین کےلیئے ریزریشن نافذ کرنا چاہتی ہے، تو یہ فیصلہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ صرف ریاضیاتی بنیاد پر نہیں، بلکہ سیاسی توازن کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے، تاکہ آبادی پر قابو پانے میں آگے رہنے والی ریاستوں (خاص طور پر جنوبی ریاستوں) کو نقصان نہ ہو۔
اس کے علاوہ انہوں نے ذات پات پر مبنی مردم شماری میں تاخیر پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بہار اور تلنگانہ جیسی ریاستوں نے کم وقت میں سروے کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ کام ممکن ہے۔
آخر میں انہوں نے 2021 کی مردم شماری ملتوی کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے کروڑوں لوگ سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم رہ گئے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ایسے اہم فیصلوں پر جلد بازی کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے اور پورے عمل کو جمہوری بنایا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
