Masarrat
Masarrat Urdu

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر حکومت کی نظر، ایندھن سمیت بیج اور کھاد کی ملک میں وافر مقدار موجود

Thumb

نئی دہلی، یکم اپریل (مسرت ڈاٹ کام) حکومت نے کہا ہے کہ وہ مغربی ایشیا کے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں، لہٰذا عوام کو گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کرنا چاہیے۔

پیٹرولیم اور قدرتی گیس، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں اور وزارت خارجہ کے حکام نے بدھ کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں مغربی ایشیا کے بحران کے تناظر میں ایندھن کی دستیابی، سمندری آپریشنز اور خطے میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو فراہم کی جانے والی امداد کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں معلومات شیئر کیں۔ وزارت زراعت و کسان بہبود اور شہری ہوا بازی کی وزارت کے سینئر حکام نے بھی اس سلسلے میں میڈیا کو بریفنگ دی۔

حکام نے بتایا کہ 'خریف 2026' کے لیے ملک میں کافی مقدار میں بیج دستیاب ہیں اور کسی بھی مرحلے پر زرعی اِن پُٹس اور کیمیکلز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اشیاء کی دستیابی کو مزید بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی اجناس کی قیمتیں مستحکم ہیں اور ان پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

حکومت نے عالمی سطح پر طیاروں کے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کیا ہے اور مقامی ایئر لائنز کے لیے اس اضافے کو محدود رکھا ہے تاکہ ہوائی سفر کے کرایے کنٹرول میں رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی باقاعدہ خوردہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور اسی طرح گھریلو ایل پی جی صارفین کے لیے بھی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 مارچ سے اب تک 5 کلوگرام کے 3 لاکھ 90 ہزار ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے ہیں۔

حکومت مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں تمام ہندوستانی جہازراں محفوظ ہیں۔ ساتھ ہی حکومت خلیجی خطے میں ہندوستانی طلباء کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ ان کا تعلیمی سال متاثر نہ ہو۔ حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں مجموعی طور پر پروازوں کی صورتحال میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، اور اس خطے سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے اضافی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔ گزشتہ 28 فروری سے اب تک اس خطے سے تقریباً 5,98,000 مسافر ہندوستان واپس آ چکے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ خریف 2026 کے لیے ملک میں بیجوں کی وافر دستیابی ہے، جہاں 166.46 لاکھ کوئنٹل کی ضرورت کے مقابلے میں 185.74 لاکھ کوئنٹل بیج دستیاب ہیں، جس سے تقریباً 19.29 لاکھ کوئنٹل کا اضافہ (سرپلس) حاصل ہے۔

ملک میں دھان (80.9 لاکھ کوئنٹل)، سویا بین (35.7 لاکھ کوئنٹل)، مونگ پھلی (21.1 لاکھ کوئنٹل)، مکئی (11.9 لاکھ کوئنٹل) اور دالوں (ارہر، مونگ، اڑد) سمیت تمام اہم فصلوں میں بیجوں کی وافر مقدار موجود ہے۔

 

مکئی کے بیجوں کو خشک کرنے کے لیے ایل پی جی/پی این جی کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، ساتھ ہی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے ایندھن کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ خریف اور ربیع 2026 دونوں کے لیے بیجوں کے زرعی اِن پُٹس دستیاب ہیں۔

 

حکومت نے کہا ہے کہ تمام ریفائنریاں اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کا بھی مناسب اسٹاک برقرار رکھا گیا ہے۔ گھریلو ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ریفائنریوں سے ایل پی جی کی مقامی پیداوار میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس (پیٹرول پمپ) معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور پیٹرول و ڈیزل کی باقاعدہ خردہ قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

 

حکام کے مطابق موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، تاہم گھریلو ایل پی جی صارفین کے لیے قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس کسی قسم کی کمی کی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آن لائن ایل پی جی بکنگ میں 92 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری روکنے کے لیے ملک بھر میں 2800 سے زائد چھاپے مارے گئے ہیں، جن میں تقریباً 500 سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں۔ سرکاری شعبے کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ریٹیل آؤٹ لیٹس اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا 1100 سے زائد مرتبہ اچانک معائنہ کیا ہے، جبکہ ضابطوں کی خلاف ورزی پر ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کو 560 سے زائد 'وجہ بتاؤ نوٹس' جاری کیے گئے ہیں۔

 

 

Ads