تفصیلات کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی اور کہا ہم نے کل ہی واضح کر دیا تھا ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہورہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کا ہمیشہ "تباہ کن تجربہ” رہا ہے۔ جب بھی مذاکراتی عمل جاری ہوا، امریکہ نے پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ اسمعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران جب مذاکراتی عمل کی کوششیں ہو رہی تھیں، ایران پر دو بار حملے کیے گئے، یہ سفارتکاری کیساتھ غداری تھی۔
ترجمان نے بتایا کہ کئی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور گزشتہ چند روز سے مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ تاہم ہمارا پیغام بہت واضح ہے، ہم اپنا دفاع کرتے رہیں گے۔۔۔ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل بمباری ہورہی ہے، لہٰذا ان کا سفارت کاری اور ثالثی کا دعویٰ قابل اعتبار نہیں ہ ایران نے صدر ٹرمپ کے "نئے گروپ” اور "مذاکرات” کے دعوؤں کو سفارتی دھوکہ دہی قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال میں کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
