واشنگٹن، 25 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔ یہ بات انہوں نے ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران کہی۔
صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ فوجی حکام سے مشاورت کی تھی، جس میں پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی آوازوں میں شامل تھے جنہوں نے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ میں ایک مسئلہ درپیش ہے، وہاں ایران نامی ایک ملک ہے جو گذشتہ 47 برس سے دہشت گردی کا منبع رہا ہے اور اب وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب ہے۔
ٹرمپ نے اشارہ کیا کہ پیٹ ہیگسیتھ نے فوجی حملے کے آپشن کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ صدر کی ان باتوں کے دوران وزیر دفاع مسکراتے ہوئے سر ہلاتے رہے۔
امریکہ نے 28 فروری سنہ 2026ء کو اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی سے ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق تب سے اب تک ایران کے اندر مختلف مقامات پر 9 ہزار سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں جبکہ ایران کے 140 سے زائد بحری جہازوں کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ایک اہم پیش رفت میں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز نیویارک اسٹاک ایکسچینج کھلنے سے قبل ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر منصوبہ بند حملوں میں پانچ روز کے عارضی وقفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے تہران کے ساتھ انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات کا انکشاف بھی کیا۔ تاہم ایرانی حکام بشمول وزارت خارجہ اور سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قاليباف نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے، البتہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے اعلان سے قبل اپنے ترکیہ کے ہم منصب سے رابطوں کا اعتراف کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق قاليباف وہ شخصیت ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے بالواسطہ رابطے قائم کیے گئے، جبکہ دوسری جانب ایران کے اندر غیر تیل اہداف پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے بدستور جاری ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ ان فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی عسکری ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے تقریباً 200 ارب ڈالر مختص کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو عراق اور افغانستان کی جنگوں کے خاتمے کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔
میدانی طور پر تصادم کا مرکز اب آبنائے ہرمز بن چکا ہے، جو دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے سالانہ 20 فیصد تیل کی سپلائی ہوتی ہے۔ جنگ کے آغاز سے ہی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر ٹرمپ نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا ایک بہت اچھا موقع موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسے ایک حقیقی معاہدے کی شکل دینا ضروری ہے۔
