مسٹر کھرگے نے منگل کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ وزیراعظم کی غیر مستقل سفارتی پالیسی سے ہندوستان کی اسٹریٹجک خودمختاری متاثر ہوئی ہے، جو دہائیوں سے خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ حالیہ اسرائیل دورے کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی اثرات پر پارلیمنٹ اور ملک کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
دوسرا اہم مسئلہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اب بھی تقریباً 37 سے 40 ہندوستانی جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن پر تقریباً 1100 ملاح سوار ہیں۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وزیراعظم مودی کی جانب سے ایران سے بات چیت کے باوجود محفوظ راستہ کیوں نہیں مل سکا، جبکہ چین، روس اور جاپان جیسے ممالک کو اجازت مل رہی ہے۔ انہوں نے توانائی کی درآمدات میں تنوع لانے کے حکومتی دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 41 ممالک سے درآمدات ہو رہی ہیں، تو پھر ملک میں گیس اور ایندھن کی کمی، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کیوں بڑھ رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم نے راجیہ سبھا میں مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور جنگ کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اس تصادم کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے اور اس سے توانائی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔
