جس فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا، اس نے حال ہی میں اسرائیل کے لیے جدید ڈرونز تیار کرنے کا بڑا معاہدہ کر رکھا تھا۔ فلسطین کے حامی سرگرم کارکنوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں فیکٹری کو آگ لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
چیک پولیس کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں اب تک کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
مقامی سیکیورٹی حکام اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے دنیا بھر میں اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کی مہم میں شدت آئی ہے۔ چیک ریپبلک تاریخی طور پر اسرائیل کا قریبی دفاعی پارٹنر رہا ہے، تاہم اس نوعیت کی براہِ راست کارروائی نے سیکیورٹی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
