اچانک کچھ سرکاری افسران دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے تقریباً 300 جوانوں، افسران اور چند وکلاء کے ساتھ احاطے میں داخل ہوئے اور ملازمین پر زور ڈالنے لگے کہ وہ فوراً نیوز روم خالی کر کے باہر نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی عدالت کے حکم پر کی جا رہی ہے، لیکن کوئی تحریری حکم دکھا نہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملازمین آرام سے باہر نہ نکلے تو انہیں طاقت استعمال کرنی پڑے گی۔
ملازمین کی جانب سے کچھ وقت دینے، کمپنی انتظامیہ کے آنے کا انتظار کرنے اور نوٹس دکھانے کی درخواست کے باوجود پولیس نے خواتین ملازمین سمیت کئی افراد کو زبردستی گھسیٹ کر اور دھکے دے کر ان کی نشستوں سے ہٹایا اور نیوز روم سے باہر نکالا۔ اس دوران ان کے ساتھ گالی گلوچ بھی کی گئی۔
پولیس نے احاطے کے گیٹ پر قبضہ کر لیا اور خبروں کے سلسلے میں باہر گئے صحافیوں اور انتظامیہ کے افسران کو اندر داخل ہونے نہیں دیا۔ وہ اپنے ذاتی سامان بھی نہیں لے پائے۔
یہ سمجھ سے باہر ہے کہ بغیر کسی پیشگی نوٹس کے اور خبر رساں ایجنسی کے سینئر انتظامیہ کی غیر موجودگی میں ملازمین کو اس طرح باہر کیوں نکالا گیا۔
اس اچانک کارروائی کے نتیجے میں یو این آئی کی انگریزی، ہندی اور اردو سروس کے تقریباً 500 سے زیادہ سبسکرائبرز کو خبروں کی ترسیل اچانک رک گئی۔ اس سے اس تاریخی خبر رساں ادارے کے وجود اور سیکڑوں ملازمین و ان کے خاندانوں کے مستقبل پر بھی خطرے کی تلوار لٹک گئی ہے۔
