وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم مودی نے کویت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت پر ہونے والے حملوں کی ہندوستان کی جانب سے سخت مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور آزاد جہاز رانی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مسلسل سفارتی بات چیت ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کویت میں مقیم ہندوستانی برادری کے لوگوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے کویتی قیادت کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا۔
بعد ازاں، وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا:
"عزت مآب شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح سے بات چیت ہوئی اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔ ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کویت کی سالمیت پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ہم نے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں امن کے لیے سفارت کاری ضروری ہے۔"
قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے پیشِ نظر وزیراعظم مودی خطے کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
