ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی خارجہ پالیسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں تاخیر پیدا ہوئی ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ہم ملاقات کا وقت دوبارہ طے کر رہے ہیں، ہم چین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں وہ اس تاخیر پر راضی ہے۔
امریکی صدر اپنی دوسری مدت صدارت کے 14ویں مہینے میں 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا پہلا دورہ کرنے والے تھے، لیکن ٹرمپ کے مطابق اب یہ دورہ تقریباً پانچ یا چھ ہفتوں بعد ہوگا۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
دورے کے التوا نے مارکیٹوں اور سفارت کاری دونوں کیلیے غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حمل کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور سرمایہ کاروں کی توجہ اب توانائی کے تحفظ پر مرکوز ہوگئی ہے۔
اس تاخیر کی وجہ سے امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، تائیوان، ٹیرف، کمپیوٹر چپس، غیر قانونی ادویات، نایاب زمینی معدنیات اور زراعت جیسے تلخ مسائل پر جاری بات چیت بھی رک گئی۔
