ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ میرا عہدہ مجھ سے کئی چیزوں کا تقاضا کر رہا ہے، عہدے کا تقاضا ہے موجودہ حالات کے ساتھ مستقبل کے بھی فیصلے کروں، ایرانی رہنماؤں اور عوام کے درمیان ہمیشہ رابطہ قائم رہے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم عظیم قوم ہیں، اللہ تعالیٰ قوم کی رہنمائی کرنے میں میری رہنمائی فرمائے، عوام کی خدمت کیلیے قرآن سے رہنمائی حاصل کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت کے بغیر میری کوئی اہمیت نہیں، اللہ کی حمایت سے عظیم رہنماؤں کی تقلید کرتا رہوں گا، عوامی یکجہتی کے ساتھ دشمن کو شکست دیں گے، عوام کا اتحاد ہمیشہ قائم رہے گا، مشکل وقت میں ایرانی عوام نے ہمیشہ بہتر فیصلے کیے وہ اپنے عزم سے دشمن کو شکست دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل ترین وقت میں ایرانی فورسز نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا، انہوں نے اپنے حملوں کے ذریعے دشمن کو حاوی نہیں ہونے دیا، دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے، مشرق وسطیٰ سے امریکی اڈے بند کیے جائیں اور اگر یہ بند نہ ہوئے تو حملے جاری رہیں گے۔ دشمن نے جو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی
’میرے والد، اہلیہ اور بہن نے شہادت کا رتبہ پایا اور شہدا کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ہمارے شہدا آج بہتر جگہ پر ہیں۔ ہر ایرانی سمیت تمام شہدا کا بدلہ لیں گے۔ دشمن کو ایرانیوں کا خون بہانے کا حساب دینا پڑے گا۔ دشمن نے ہمارے اسکولوں پر حملہ کیا ان کو حساب دینا ہوگا۔ دشمن نے جو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘
سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ 15 پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، دشمن نے کچھ ممالک میں اپنے اڈے قائم کیے جو ہمارے کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، امریکی اڈوں سے حملے جاری رہے تو جوابی حملوں کے سوا کوئی چارہ نہیں، دشمن جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو 10 رمضان کو قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیا گیا، تمام ایرانیوں سے مکمل اتحاد کی اپیل کرتا ہوں۔مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بندکیےجائیں ورنہ حملے جاری رہیں گے: مجتبی خامنہ ای
اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کشیدگی اور جنگ کو بڑھا رہی ہے اور اگر یہ اڈے برقرار رہے تو ان پر حملوں کا خطرہ موجود ہوگا۔مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے، بصورتِ دیگر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنارہےہیں، ہمیں اپنے دشمن کو شکست دینی ہے۔شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، ایرانی عوام کا اتحادہ ہمیشہ قائم رہےگا، اللہ تعالیٰ قوم کی رہنمائی کرنے میں میرے مدد فرمائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بند کیےجائیں، امریکی اڈے بند نہ ہوئے توحملے جاری رہیں گے، ہم پڑوسیوں سے دوستانہ روابط پر یقین رکھتے ہیں، ہم صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ ناگزیر طور پر جاری رکھیں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ عوام یکجہتی سے دشمن کو شکست دیں گے، ہم اپنے شہدا خصوصا مناب اسکول کے شہدا کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہیں گے،
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہُرمُز دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے بند رہنی چاہیے، ہرایرانی سمیت تمام شہدا کا بدلہ لیں گے۔
