بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ جہاز کے مرکزی لانڈری سیکشن میں لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے جہاز کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کی زد میں آکر دو اہلکار جھلس گئے جنہیں فوری طور پر جہاز کے طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے انجن اور اہم دفاعی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور جہاز مکمل طور پر فعال ہے۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اس وقت بحیرہ احمر میں "آپریشن ایپک فیوری" کے تحت اپنے اسٹرائیک گروپ کے ساتھ تعینات ہے اور اپنی معمول کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔امریکی بحریہ نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا واقعہ کسی بیرونی حملے یا دہشت گردی کا نتیجہ نہیں ہے۔آگ لگنے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق فی الوقت خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اور جہاز کی حفاظتی تہہ برقرار ہے۔ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ امریکی بحریہ کا جدید ترین اور مہنگا ترین طیارہ بردار جہاز ہے، جس کی بحیرہ احمر میں موجودگی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
