بیروت، 12 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) ایک ایرانی عسکری ذریعے نے دھمکی دی ہے کہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مالیاتی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ مذکورہ ذریعے کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں ایران کے ایک بینک کو نشانہ بنایا گیا جس پر امریکہ اور اسرائیل کو اب سخت ردعمل کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی میڈیا نے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈ کوارٹر کے ترجمان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ایک ایرانی بینک پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد تہران اب خطے میں امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ اقتصادی اور بینکنگ مراکز کو نشانہ بنائے گا۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے آغاز سے ہی ایرانی ردعمل کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں نقل و حمل میں خلل پڑا ہے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسرائیل پر نئے میزائل حملے کیے گئے اور مقامی میڈیا نے تل ابیب کے قریب متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور تہران میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ایرانی حکام نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کی جگہ نیا سپریم لیڈر منتخب کیا ہے۔
تاہم نئے سپریم لیڈر ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے تفصیلات بتائے بغیر صرف اتنا ذکر کیا ہے کہ وہ جنگ کے دوران زخمی ہوئے ہیں، لیکن حکومتی مشیر یوسف بزشکیان جو صدر مسعود بزشکیان کے صاحبزادے ہیں نے اپنے وسیع ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ نئے سپریم لیڈر خیریت سے ہیں۔
