Masarrat
Masarrat Urdu

ملک میں ایل پی جی گیس کی شدید قلت، ایک کروڑ افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ: اروند کیجریوال

Thumb

نئی دہلی، 11 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بدھ کے روز کہا کہ پورے ملک میں ایل پی جی گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور اس کے باعث ایک کروڑ سے زیادہ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

مسٹر کیجریوال نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس وقت ملک ایک سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق پورے ملک میں ایل پی جی گیس کی شدید کمی ہو گئی ہے۔ ایل پی جی گیس کا استعمال گھروں میں کھانا پکانے کے علاوہ ریستورانوں، ہوٹلوں اور صنعتوں سمیت مختلف شعبوں میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بڑی کمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں روزانہ ہونے والی ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد کمی آ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی کی کل کھپت کا تقریباً 60 فیصد درآمد کیا جاتا ہے اور اس درآمد کا تقریباً 90 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ ان کے مطابق یہ راستہ ہندوستان کے لیے بند ہو جانے کی وجہ سے ایل پی جی کی درآمد میں شدید کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی طور پر 50 سے 55 فیصد تک ایل پی جی کی دستیابی کم ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر ریستورانوں اور ہوٹلوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ ریستورانوں اور ہوٹلوں کو ایل پی جی گیس فراہم نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر ریستوران اور ہوٹل ایل پی جی کا ذخیرہ بھی نہیں رکھ سکتے۔

مسٹر کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کی وجہ سے ممبئی میں تقریباً 20 فیصد ہوٹل اور ریستوران بند ہو چکے ہیں اور اگلے دو دنوں میں 50 فیصد تک ہوٹل اور ریستوران بند ہونے کے خدشات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں تقریباً دس ہزار ہوٹل اور ریستوران بند ہونے کے دہانے پر ہیں جبکہ پنجاب اور این سی آر میں بھی آنے والے دنوں میں ہزاروں ہوٹل اور ریستوران بند ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شادیوں کا موسم ہے اور اگر ایل پی جی بحران جاری رہا تو بہت سے لوگوں کو اپنی شادیاں ملتوی کرنا پڑ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اسی طرح کی صورتحال بنگلورو، حیدرآباد، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، ہریانہ اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں بھی پیدا ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گجرات کے موربی کو ٹائل صنعت کا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں تقریباً 650 صنعتیں قائم ہیں۔ ان میں سے 170 صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور تقریباً ایک لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایل پی جی بحران مزید گہرا ہوا تو پورے ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد کے اچانک بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اگر اتنے بڑے پیمانے پر بے روزگاری پیدا ہوئی تو اس کے نتائج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں مرکزی حکومت نے گھریلو اور تجارتی ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے جبکہ بحران کے باعث بازار میں اس کی بڑے پیمانے پر کالا بازاری بھی ہو رہی ہے۔

آپ کے رہنما نے کہا کہ ملک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایل پی جی بحران کیوں پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سب سے زیادہ نقل و حمل ہوتی ہے اور ایران نے اس پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ صرف اس کے دوست ممالک کے جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی، اسی لیے اس وقت روس اور چین کے جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ جب کسی جنگ میں ہندوستان کا براہ راست مفاد نہیں تھا تو ملک کو غیر جانب دار رہنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی عدم وابستگی پر مبنی رہی ہے، لیکن وزیراعظم نے چند دنوں میں اسے ختم کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنگ شروع ہونے سے ایک دن پہلے وزیراعظم کو اسرائیل جانے کی کیا ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ آبادی والے عظیم ملک ہندوستان کو وزیراعظم نے امریکہ کی کالونی بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں انگریز ہندوستان پر اس لیے قبضہ کر سکے تھے کیونکہ اس وقت حکمران کمزور تھے اور انہیں بلیک میل کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج امریکہ نے بھی اسی طرح ہندوستان پر اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے کیونکہ ملک کی قیادت کمزور ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سابق صدر ٹرمپ اور دیگر حکام روزانہ وزیراعظم اور ملک کا مذاق اڑاتے ہیں جس سے ہر ہندوستانی کو شدید توہین کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ آخر وزیراعظم کی ایسی کیا مجبوری ہے۔ ان کے بقول اگر ٹرمپ کے پاس وزیراعظم کے خلاف کوئی راز ہے اور اس وجہ سے وہ دباؤ میں ہیں تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے لیکن ملک کے مفادات سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے۔

 

ٰ

Ads