تہران، 5 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران خطے میں صرف اور صرف امریکی فوجی اہداف کو پوری درستی کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں اور پڑوسی ممالک پر جارحیت نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران ان مقامات کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کے تمام ملکوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ سعودی عرب پر ہمارے حملے کی باتیں محض الزامات ہیں۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی حملے کا سامنا ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، ہم نے اس کا آغاز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں اجتماعی سلامتی کے خواہاں ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ تمام ایرانی ادارے قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اندرونی معاملات بہتر طریقے سے چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عارضی قیادت کونسل اس وقت ملک کے معاملات چلا رہی ہے۔
واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ سے پہلے بات چیت اچھے انداز میں چل رہی تھی۔ واشنگٹن ہی وہ فریق ہے جس نے اسے ناکام بنایا۔ واشنگٹن کے ساتھ موجودہ مذاکرات کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ایرانی ترجمان نے کہا کہ ہم اب دفاع پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
واضح رہے گزشتہ 28 فروری کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملے کا اعلان کیا تھا جسے "شیر کی دھاڑ‘‘ (Roar of the Lion) کا نام دیا گیا۔ واشنگٹن نے بعد میں اطلاع دی کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے جسے "شدید غضب" (Epic Fury) کا نام دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد ایرانی حکومتی نظام کا تختہ الٹنا ہے۔ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ملکوں، جہاں کئی امریکی اڈے موجود ہیں، کے علاوہ عراق اور اردن کی طرف میزائلوں اور ڈرونز برسائے۔
تہران نے یکم مارچ کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے علاوہ وزیر دفاع اور مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی کے جاں بحق ہوجانے کا اعلان کیا تھا۔ نیز پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی کے مارے جانے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ امریکی صدر نے بعد میں تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن تقریباً 40 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے۔
