بیان میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 30 افراد کو سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا جنہیں زخمی ہونے کے باعث قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
بعد ازاں سری لنکا کے سیکرٹری برائے وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کے بعد اب تک جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں بھی سمندر سے نکالی جا چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا اور اسے مکمل طور پر ایران میں تیار کیا گیا تھا۔
یہ جنگی جہاز نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس تھا، اس کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن بتایا جاتا ہے جبکہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر پر مشتمل عالمی بحری سفر بھی کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا تھا۔
سری لنکن حکام کے مطابق بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں بعض افراد کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں جبکہ کچھ کو جلنے اور خراشوں کے زخم آئے ہیں، جن میں سے چند کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
