دوبئی،4 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) جنگ کے پانچویں دن بدھ کے روز تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
سرکاری ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق طلوعِ فجر کے وقت تہران کے مختلف علاقوں میں کئی دھماکے ہوئے۔
تہران کے وسط میں واقع آزادی اسکوائر اور دارالحکومت کے مشرقی و مغربی حصوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ادھر اسرائیل نے ایرانی میزائل داغے جانے کے بعد اپنی ہوائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کی کارروائیاں ایران میں اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، جو ایران کی حملہ آور صلاحیتوں اور فوجی وسائل سے متعلق ہیں۔ فوج نے بتایا کہ اس نے میزائل لانچ پلیٹ فارم اور فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا۔
اس کے علاوہ اسرائیلی فضائیہ ایران کی فضائی صلاحیتوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور ایرانی فوج کے وہ اہلکار بھی نشانہ بنائے گئے ،جو فضائی دفاعی نظام کو فعال کر رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ایرانی فوج کے M17 طیارے کو بھی نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد اس کی افواج نے ایران میں 300 میزائل لانچ پلیٹ فارم تباہ کیے، 1200 فضائی حملے کیے اور 2000 اہداف پر کارروائی کی۔
اس کے علاوہ فوج نے کہا کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے یروشلم اور تل ابیب کے اوپر ایرانی میزائلوں کو ناکارہ بنایا۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق بیٹ شمیش کے قریب یروشلم میں ٹکڑے گرنے کی اطلاع ملی۔مزید برآں شمالی اسرائیل کے گیلیل میں لبنان سے داغے گئے میزائلوں کے بعد ہوائی الرٹ سائرن بجا دیے گئے۔
اسی دوران اسرائیل نے کہا کہ حزب اللہ نے رات کے کئی گھنٹوں کے دوران تقریباً 30 میزائل داغے جس کے جواب میں اسرائیلی افواج نے مشرقی لبنان کے شہر بعلبک اور جبل لبنان کے علاقے الحازمیہ پر بمباری کی۔
اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے حارہ حریک میں عمارتوں کے انخلا کا انتباہ بھی جاری کیا اور پھر وہاں فضائی حملے کیے۔
تہران میں تباہی کا دائرہ
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ ایران کی دارالحکومت تہران اور دیگر علاقوں میں گزشتہ دنوں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شدید تباہی ہوئی ہے۔
تصاویر میں تہران میں پاسداران انقلاب کی چھاؤنی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے مراکز پر حملوں سے پہلے اور بعد کا فرق واضح نظر آ رہا ہے۔
اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس نے دسیوں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو ہلاک کیا، جس کے بعد گزشتہ ہفتے علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ کارروائیاں کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ کئی ہفتوں یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے، کیونکہ ہلاک ہونے والے افراد میں وہ کمانڈرز بھی شامل ہیں، جو مستقبل میں ملک کی قیادت کر سکتے تھے۔
یاد رہے کہ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی، جب اسرائیل اور امریکہ نے تہران پر مشترکہ فضائی حملے کیے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیج میں امریکی فوجی اڈوں، سفارت خانوں کے علاوہ ہوٹلوں، بندرگاہوں اور رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا۔
حزب اللہ نے بھی "خامنہ ای کے قتل کا بدلہ" لیتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، باوجود اس کے کہ لبنان کی حکومت نے اس کی فوجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی۔
عراق میں تہران نواز مسلح گروپوں نے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم عراقی حکومت نے کہا کہ وہ تمام بندرگاہوں اور غیر ملکی قونصل خانوں کی حفاظت کے لیے تیار ہے اور ملک کو تنازعے میں ملوث ہونے سے روکے گی۔
